عالمی ریٹنگ ایجنسی فچ نے پاکستان کی طویل مدتی قرض ریٹنگ بی مائنس پر برقرار رکھتے ہوئے ملک کا ریٹنگ آؤٹ لک مستحکم قرار دے دیا ہے۔
فچ کے مطابق پاکستان کے قرضوں کے استحکام میں بہتری کے اشارے ملے ہیں اور ملک کے لیے ’آر آر فور‘ (RR4) ریکوری ریٹنگ بھی مقرر کر دی گئی ہے۔ ایجنسی نے پہلی بار پاکستان کی ریٹنگز کو انڈر کرائیٹیریا آبزرویشن سے ہٹا دیا، جس کا مطلب ہے کہ ملک کی معاشی صورتحال میں نسبتاً بہتری آئی ہے۔
ریٹنگ کے مستحکم رہنے کی وجوہات میں بہتر مالی نظم و نسق، آئی ایم ایف اصلاحات اور مستحکم زرمبادلہ کے ذخائر شامل ہیں۔
واضح رہے کہ اپریل 2025 میں فچ نے پاکستان کی ریٹنگ ٹرپل سی پلس (CCC+) سے بڑھا کر بی مائنس (B-) کی تھی، جس کے بعد ملک ہائی رسک قرض گیر ممالک کی فہرست میں شامل ہے۔ فچ نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کو کریڈٹ خدشات بدستور لاحق ہیں، تاہم حالیہ توثیق معاشی استحکام کے لیے مثبت اشارے فراہم کرتی ہے۔
فچ کی پاکستان کی بی مائنس ریٹنگ برقرار، آؤٹ لک مستحکم قرار
