سابق سربراہ پاک فضائیہ ائیر مارشل نور خان کی صاحبزادی اور ممتاز پاکستانی نژاد امریکی ماہرِ اطفال ڈاکٹر فائقہ نور خان (فائقہ آفتاب قریشی) امریکا میں ایک المناک ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہو گئیں۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ افسوسناک حادثہ امریکی ریاست ورجینیا کی کاؤنٹی ڈینوڈی میں ویک اینڈ پر پیش آیا۔ پولیس حکام کے مطابق 75 سالہ ڈاکٹر فائقہ قریشی کی گاڑی اچانک بے قابو ہو کر سڑک کے کنارے ایک رکاوٹ سے ٹکرا گئی، جس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی۔ حادثے کے فوراً بعد گاڑی میں آگ لگنے کے باعث وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئیں۔ ریسکیو اور فائر بریگیڈ کے عملے نے جائے حادثہ پر پہنچ کر آگ پر قابو پایا، تاہم ڈاکٹر فائقہ کی جان نہ بچائی جا سکی۔ورجینیا پولیس نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے، جبکہ ابتدائی شواہد کے مطابق یہ ایک سنگین ٹریفک حادثہ تھا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل رپورٹ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد جاری کی جائے گی۔
ڈاکٹر فائقہ نور خان امریکا میں طبی شعبے کا ایک معتبر اور معروف نام تھیں۔ انہوں نے 1993 میں بچوں کے معروف طبی ادارے دی کنگز ڈاٹر اسپتال میں بطور فزیشن اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں سنبھالیں۔ بعد ازاں وہ طویل عرصے تک اسپتال کے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ کی میڈیکل ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دیتی رہیں۔ ان کے زیرِ انتظام ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں ہزاروں بچوں کو بروقت اور معیاری طبی سہولیات فراہم کی گئیں۔اسپتال انتظامیہ کی جانب سے جاری تعزیتی بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر فائقہ قریشی کو بچوں اور ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ غیر معمولی لگاؤ حاصل تھا۔ وہ نہ صرف ایک ماہر معالج تھیں بلکہ نوجوان ڈاکٹروں اور میڈیکل اسٹاف کی تربیت میں بھی کلیدی کردار ادا کرتی رہیں۔ اسپتال کے مطابق ان کی خدمات اور رہنمائی کے اثرات طویل عرصے تک محسوس کیے جاتے رہیں گے۔
کنگز ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی لاہور نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں ڈاکٹر فائقہ نور خان کے انتقال پر تعزیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس ادارے کی نہایت ہونہار طالبہ تھیں۔ یونیورسٹی کے مطابق ڈاکٹر فائقہ نے 1973 میں کنگز ایڈورڈ میڈیکل کالج سے گریجویشن مکمل کی اور بعد ازاں وہ اسی ادارے میں بطور استاد بھی خدمات انجام دیتی رہیں، جہاں انہوں نے کئی طلبہ کی پیشہ ورانہ تربیت کی،تعزیتی بیان میں مزید کہا گیا کہ ڈاکٹر فائقہ نور خان کی وفات طبی دنیا کے لیے ایک بڑا نقصان ہے، کیونکہ وہ نہ صرف ایک قابل ڈاکٹر بلکہ ایک بہترین معلم اور انسان دوست شخصیت بھی تھیں۔
