واپڈا نے دریائے چناب پر چار نئے ڈیموں کی تعمیر کے منصوبے پر فزیبلیٹی اسٹڈی کا آغاز کردیا ہے۔ مجوزہ منصوبے کا مقصد مون سون بارشوں اور سیلابی ریلوں کے دوران اضافی پانی کو ذخیرہ کرنا اور اسے خشک سالی یا پانی کی کمی کے دوران استعمال میں لانا ہے۔
منصوبے کے تحت وزیرآباد، مڈھ رانجھا، چنیوٹ اور شاہ جیونہ کے مقامات پر کم اونچائی والے چار ڈیم تعمیر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق ان چاروں ڈیموں میں مجموعی طور پر تقریباً 45 لاکھ ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ہوگی جبکہ منصوبے کی مجموعی تعمیراتی لاگت کا تخمینہ 298 ارب روپے لگایا گیا ہے۔
دوسری جانب سندھ حکومت نے منصوبے کے ممکنہ ماحولیاتی اور آبی اثرات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے واپڈا سے تفصیلی معلومات طلب کرلی ہیں۔ سندھ نے چاروں مجوزہ ڈیموں کی فزیبلیٹی اسٹڈیز، پی سی ون دستاویزات اور ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق سندھ حکومت کا مؤقف ہے کہ منصوبوں سے متعلق مکمل تکنیکی ڈیٹا، اہم پیرامیٹرز اور تفصیلی مطالعات ابھی تک فراہم نہیں کیے گئے، اس لیے زیریں علاقوں اور دریائے سندھ کے ڈیلٹا پر ممکنہ اثرات کا مکمل جائزہ لیے بغیر حتمی رائے دینا ممکن نہیں۔
واپڈا نے سندھ کے ساتھ دستیاب مطالعات اور متعلقہ دستاویزات شیئر کرنے پر آمادگی ظاہر کردی ہے۔ ادارے کے مطابق دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم جیسے منصوبوں کی تکمیل کے بعد کوٹری سے نیچے پانی کی ضرورت میں کمی آسکتی ہے۔
تاہم سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ کوٹری سے نیچے بہاؤ پہلے ہی کم ہو رہا ہے اور 2022 اور 2025 جیسے غیر معمولی سیلابی سالوں کے اعداد و شمار کو معمول کے پانی کی دستیابی کا پیمانہ نہیں سمجھا جا سکتا۔
چار نئے ڈیموں کا منصوبہ ایک جانب سیلابی پانی کے ذخیرے اور مستقبل کی آبی ضروریات پوری کرنے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ دوسری جانب سندھ نے اس کے ماحولیاتی اثرات، زیریں بہاؤ اور ڈیلٹا پر ممکنہ نتائج کا تفصیلی جائزہ لینے پر زور دیا ہے۔
دریائے چناب پر چار نئے ڈیموں کی تجویز، سندھ نے ماحولیاتی تفصیلات مانگ لیں
