Baaghi TV

جنریشن زی کی علمی صلاحیتیں والدین سے کمزور قرار، ٹیکنالوجی کے زیادہ استعمال پر تشویش

‎امریکی جریدے فارچیون کی ایک رپورٹ کے مطابق جنریشن زی پہلی ایسی نسل بن گئی ہے جس کی علمی اور ادراکی صلاحیتیں مجموعی طور پر اپنے والدین کی نسل کے مقابلے میں کم دیکھی گئی ہیں۔
‎رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹیکنالوجی کے حد سے زیادہ استعمال اور ڈیجیٹل آلات پر غیر ضروری انحصار نے سیکھنے کی صلاحیت کو بہتر بنانے کے بجائے کمزور کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق مسلسل اسکرین استعمال، فوری معلومات تک رسائی اور توجہ کی کم مدت تعلیمی کارکردگی پر اثر انداز ہو رہی ہے۔
‎طلبہ میں لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کا پروگرام 2002 میں امریکی ریاست مین (Maine) سے شروع ہوا، جس کے بعد یہ ماڈل پورے امریکا میں پھیل گیا۔ حکومتوں اور تعلیمی اداروں نے ڈیجیٹل تعلیم کو فروغ دینے کیلئے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی۔
‎اعداد و شمار کے مطابق صرف 2024 کے دوران طلبہ کو ڈیجیٹل آلات فراہم کرنے پر 30 ارب ڈالر سے زائد خرچ کیے گئے، تاہم تعلیمی نتائج توقعات کے برعکس سامنے آئے اور بہتری محدود رہی۔
‎رپورٹ میں ماہرین تعلیم نے خبردار کیا ہے کہ ٹیکنالوجی کو مکمل متبادل کے طور پر استعمال کرنے کے بجائے اسے متوازن انداز میں تعلیمی نظام کا حصہ بنانا ضروری ہے، بصورت دیگر طلبہ کی توجہ، یادداشت اور تنقیدی سوچ متاثر ہو سکتی ہے۔

More posts