بدھ کے روز بلوچستان میں بی ایل اے کے مسلح افراد نے اسلحے کے زور پر ایک خاتون کو اغوا کر لیا۔ متاثرہ خاتون کی بازیابی کے لیے سکیورٹی اداروں کو متحرک کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق تقریباً شام 04:30 سے 04:45 کے درمیان بلوچستان کے علاقے بلچہ میں ایک کرولا گاڑی ایک خاتون نرگس کے گھر کے سامنے آ کر رکی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ خاتون خود گاڑی میں جا کر بیٹھ گئی، جس کے بعد گاڑی وہاں سے روانہ ہو گئی۔بعد ازاں خاتون کے شوہر اور بھتیجے نے گاڑی کا پیچھا کیا اور ناصرآباد شہر کے قریب اسے روکنے میں کامیاب ہو گئے، ذرائع نے بتایا۔
اس موقع پر ذرائع کے مطابق گاڑی سے ایک مسلح شخص کلاشنکوف اٹھائے باہر نکلا۔جب شوہر نے مزاحمت کی اور بتایا کہ خاتون اس کی بیوی ہے اور اسے زبردستی لے جایا جا رہا ہے، تو پیچھے سے دو موٹر سائیکلیں آ گئیں اور انہوں نے اس پر حملہ کر دیا۔ملزمان نے شوہر اور اس کے بھتیجے کے موبائل فون بھی چھین لیے اور بعد ازاں خاتون کو اپنے ساتھ ناصرآباد کے جنگلاتی علاقے کی طرف لے گئے۔ذرائع کے مطابق ضلعی پولیس واقعے پر سرگرم عمل ہے۔ذرائع نے بتایا کہ اس واقعے کی فوری طور پر تمام انٹیلی جنس ایجنسیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اطلاع دے دی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق واقعے کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے اور ہر پہلو سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ مزید پیش رفت اور تفصیلات مناسب وقت پر فراہم کی جائیں گی۔
یہ واقعہ کسی عام اغوا یا ذاتی دشمنی کا معاملہ نہیں۔ دن کی روشنی میں اسلحے کے زور پر عورت کا اغوا، مدد کے لیے مسلح ساتھیوں کا پہنچنا، اور پھر جنگل کی طرف لے جانا ایک منظم دہشت گرد کارروائی کی واضح علامت ہے۔ یہ وہی طریقۂ کار ہے جو بی ایل اے دہشت گرد برسوں سے خوف پھیلانے کے لیے استعمال کرتے آئے ہیں۔بلوچستان میں بلوچستان لبریشن آرمی کی جانب سے عورتوں کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوششیں سامنے آتی رہی ہیں۔ پہلے نفسیاتی، سماجی اور جذباتی استحصال، پھر جسمانی تشدّد اور جنسی زیادتی، اور اس کے بعد بلیک میلنگ کے ذریعے خودکش حملوں پر مجبور کرنا اس حکمتِ عملی کا حصہ رہا ہے۔
تشویش ناک حقیقت یہ بھی ہے کہ بعض معاملات میں اغوا شدہ عورتوں کو جنسی غلامی کے لیے رکھا جاتا ہے۔ انہیں خوف، بدنامی اور جان کے خطرے کے ذریعے قابو میں رکھا جاتا ہے تاکہ وہ مزاحمت نہ کر سکیں اور تنظیم کے مقاصد کے لیے استعمال ہوتی رہیں۔کیچ کا یہ واقعہ اسی خطرناک پیٹرن کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ خدشہ ہے کہ خاتون کو پہلے جبری جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جائے گا، پھر بلیک میل کر کے اسے خودکش حملہ آور بنانے کی کوشش کی جائے گی۔ یہ صرف ایک عورت یا ایک خاندان کا مسئلہ نہیں، بلکہ پورے معاشرے کے لیے کھلا خطرہ ہے۔عورتوں کا اغوا، ان پر تشدد اور انہیں اپنے گھناؤنے عزائم کے لیے استعمال کرنا بدترین دہشت گردی ہے۔ اگر ایسے جرائم کو بے نقاب نہ کیا گیا تو یہ سلسلہ پھیلتا جائے گا۔ آج سچ کہنا اور آواز اٹھانا ہی کل کے بڑے سانحے کو روک سکتا ہے۔
