جنگوں میں عموماً کوئی واضح فاتح نہیں ہوتا اور سب سے بڑی قیمت عام لوگ ادا کرتے ہیں۔ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے بعد عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور سپلائی چین پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے کے باعث خلیجی خطہ عدم استحکام کا شکار ہو گیا ہے جبکہ لاکھوں افراد کو اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔ جنگ کے اثرات صرف میدان جنگ تک محدود نہیں رہے بلکہ دنیا بھر میں کاروبار اور صارفین کو بھی مہنگائی اور معاشی دباؤ کا سامنا ہے۔
تیل کی قیمتوں میں اضافے اور خلیج میں سمندری راستوں، خاص طور پر آبنائے ہرمز کے اردگرد مشکلات کے باعث عالمی تجارت متاثر ہو رہی ہے۔ اس صورتحال نے توانائی کی سپلائی اور شپنگ کے نظام پر بھی دباؤ بڑھا دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس جنگ سے بعض ممالک کو معاشی نقصان کا سامنا ہو سکتا ہے جبکہ کچھ ممالک کے لیے نئے معاشی اور سٹریٹیجک مواقع بھی پیدا ہو رہے ہیں۔ توانائی کی بڑھتی قیمتیں تیل برآمد کرنے والے بعض ممالک کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہیں جبکہ تیل درآمد کرنے والے ممالک کو زیادہ مالی بوجھ برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔
موجودہ صورتحال میں عالمی معیشت اور خطے کی سیاست پر اس جنگ کے اثرات آئندہ مہینوں میں مزید واضح ہونے کا امکان ہے۔
ایران جنگ کے عالمی اثرات، کس کو نقصان اور کس کو فائدہ؟
