بدھ کے روز عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، جہاں خام تیل کی قیمت 110 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ یہ اضافہ مشرقِ وسطیٰ میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کے بعد سامنے آیا، جس نے عالمی مارکیٹس کو شدید متاثر کیا اوروائیٹ ہاؤس کی جانب سے قیمتوں کو قابو میں رکھنے کی کوششیں بھی ناکافی ثابت ہوئیں۔
عالمی معیار کے مطابق Brent crude کی قیمت 110.90 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی، جبکہ امریکی خام تیل WTI crude oil 99.78 ڈالر فی بیرل تک بڑھ گیا۔ اس اضافے کی بڑی وجہ ایران کی جانب سے توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی اطلاعات ہیں۔رپورٹس کے مطابق قطر کی اہم گیس تنصیبات میں آگ لگنے کے واقعات پیش آئے، جبکہ سعودی عرب نے فضائی خطرات کو ناکام بنانے کا دعویٰ کیا۔ یہ پیش رفت ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے جاری وارننگ کے بعد سامنے آئی۔
اس سے قبل بھی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا جب ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی نے تیل و گیس کی تنصیبات پر حملوں کی اطلاع دی تھی۔ اس دوران برینٹ کروڈ 3.83 فیصد اضافے کے ساتھ 107.38 ڈالر جبکہ امریکی خام تیل 96.32 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا تھا۔ادھر وائیٹ ہاؤس نے عارضی طور پر Jones Act میں نرمی دیتے ہوئے غیر ملکی جہازوں کو 60 دن کے لیے امریکی بندرگاہوں کے درمیان سامان کی ترسیل کی اجازت دی، تاکہ سپلائی میں بہتری لائی جا سکے، تاہم اس اقدام کے باوجود قیمتوں میں اضافہ جاری رہا۔
ماہرین کے مطابق توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والا نقصان عالمی سپلائی چین پر طویل المدتی اثر ڈال سکتا ہے۔ سرمایہ کاری فرم کے سینئر مینیجر روب تھمل کا کہنا ہے کہ "اگر توانائی کے ڈھانچے کو نقصان پہنچتا ہے تو اس کی بحالی میں مہینوں یا حتیٰ کہ سال لگ سکتے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ مارکیٹ میں بے چینی پائی جا رہی ہے۔”تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی تو عالمی تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ اور توانائی بحران کا خدشہ بڑھ سکتا ہے۔
