Baaghi TV


اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی صحافیوں پر تشدد کی سنگین تفصیلات، عالمی رپورٹ میں انکشافات

‎اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینی صحافیوں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی اور تشدد سے متعلق چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صحافیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیم Committee to Protect Journalists نے اپنی تازہ رپورٹ میں متعدد سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔
‎رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکام کی تحویل میں موجود کم از کم 56 فلسطینی صحافیوں کو دورانِ حراست جسمانی اور ذہنی تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ قیدی صحافیوں کو ذہنی اذیت دینے کے لیے مسلسل انتہائی بلند آواز میں موسیقی سنائی جاتی رہی تاکہ انہیں نفسیاتی دباؤ میں رکھا جا سکے۔
‎دستاویز میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ 17 صحافیوں کے ساتھ جنسی تشدد کے واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ 55 افراد کو جیلوں میں مناسب خوراک تک فراہم نہیں کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق ان اقدامات کا مقصد غزہ اور مغربی کنارے کی زمینی صورتحال عالمی سطح پر سامنے آنے سے روکنا تھا۔
‎رپورٹ میں فلسطینی صحافی احمد عبدالعال کے کیس کا خصوصی ذکر کیا گیا ہے۔ بتایا گیا کہ انہیں پانچ روز تک آنکھوں پر پٹی باندھ کر رکھا گیا اور مسلسل تیز آواز میں موسیقی سنائی جاتی رہی۔ رپورٹ کے مطابق جب وہ شدید ذہنی دباؤ کے باعث بے ہوش ہو جاتے تو انہیں بجلی کے جھٹکے دے کر دوبارہ ہوش میں لایا جاتا تھا۔
‎رپورٹ میں شامل الزامات پر اسرائیلی حکام کی جانب سے باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں نے واقعے کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

More posts