ملک بھر میں سونے کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس نے خریداروں اور سرمایہ کاروں دونوں کو متاثر کیا ہے۔ حالیہ اضافے کے بعد سونا ملکی تاریخ کی بلند ترین سطحوں کے قریب پہنچ گیا ہے، جس سے جیولری مارکیٹ میں سست روی کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے۔
آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق فی تولہ سونے کی قیمت میں 4 ہزار 800 روپے کا بڑا اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد فی تولہ قیمت بڑھ کر 4 لاکھ 72 ہزار 62 روپے ہوگئی ہے۔ اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی 4 ہزار 116 روپے اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد نئی قیمت 4 لاکھ 4 ہزار 717 روپے تک پہنچ گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر سونے کی قیمتوں میں اضافہ، ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ، اور خطے میں جاری کشیدگی جیسے عوامل مقامی مارکیٹ پر براہ راست اثر انداز ہو رہے ہیں۔ عالمی بازار میں بھی سونے کی قیمت 48 ڈالر اضافے کے ساتھ 4 ہزار 493 ڈالر فی اونس ہوگئی ہے، جو اس رجحان کی بڑی وجہ سمجھی جا رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق غیر یقینی معاشی صورتحال میں سرمایہ کار سونے کو محفوظ سرمایہ کاری سمجھتے ہیں، جس کی وجہ سے طلب میں اضافہ ہوتا ہے اور قیمتیں اوپر جاتی ہیں۔ دوسری جانب مقامی سطح پر روپے کی قدر میں کمی بھی سونے کی قیمت بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
جیولرز کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث عام خریدار مارکیٹ سے دور ہو رہے ہیں، جبکہ شادی بیاہ کے سیزن میں بھی خریداری محدود ہو سکتی ہے۔ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو آنے والے دنوں میں سونے کی قیمت مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
سونے کی قیمتوں میں تیزی، فی تولہ 4 لاکھ 72 ہزار سے تجاوز
