متحدہ عرب امارات میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں حالیہ اتار چڑھاؤ کے بعد شہریوں اور سرمایہ کاروں نے اپنے پرانے زیورات بیچنا شروع کر دیے ہیں تاکہ قرضہ جات چکائے جائیں یا پراپرٹی میں سرمایہ کاری کی جا سکے۔
دبئی گولڈ سوک اور دیگر مارکیٹوں میں لوگوں کی لمبی قطاریں دیکھنے کو ملی، جہاں انہوں نے 22K، 21K، 18K اور 14K سونے کے زیورات فروخت کیے۔ 29 جنوری کو ایک گرام سونے کی قیمت Dh666 تک پہنچ گئی تھی، لیکن چند دن بعد یہ گر کر Dh589.5 پر آ گئی، جس سے فوری فروخت میں اضافہ ہوا۔
شہزادی رحمان نے اپنے پرانے زیورات بیچ کر 25 فیصد منافع حاصل کیا، جبکہ دیگر افراد نے قرضہ جات چکانے یا پراپرٹی خریدنے کے لیے سونے کی فروخت کو ترجیح دی۔ سرمایہ کار میناک دوجا کے مطابق چاندی کی فروخت میں بھی اضافہ ہوا کیونکہ سرمایہ کار قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کی وجہ سے جلدی نقد رقم حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ حالیہ دنوں میں قیمتیں مستحکم ہو گئی ہیں، بعض سرمایہ کار توقع کر رہے ہیں کہ چاندی کی قیمتیں دوبارہ $100 فی اونس تک جا سکتی ہیں۔ اب شہری اور سرمایہ کار سونے کو صرف زیورات کے طور پر نہیں بلکہ مالی منصوبہ بندی اور پراپرٹی میں سرمایہ کاری کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
متحدہ عرب امارات میں سونے کی فروخت میں اضافہ
