Baaghi TV

گونج،تحریر: رئیس عنایت اللہ چاچڑ

کچھ آوازیں کانوں سے نہیں، دل سے سنی جاتی ہیں۔ وہ لمحوں کی محتاج نہیں ہوتیں، وقت گزرنے کے بعد بھی انسان کے اندر کہیں دھیمی سی صدا بن کر زندہ رہتی ہیں۔ یہی صدا جب یادوں، احساسات اور تجربات سے گزر کر لفظوں کا روپ دھارتی ہے تو اسے شاید گونج کہنا زیادہ مناسب ہے۔ زندگی کے سفر میں ہم بہت سے لوگوں سے ملتے ہیں۔ کچھ لوگ راستے میں ملنے والی چھاؤں کی طرح ہوتے ہیں، چند قدم ساتھ چلتے ہیں اور پھر نظروں سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔ کچھ چہرے وقت کی گرد میں دھندلا جاتے ہیں، مگر ان کی کہی ہوئی ایک بات، دیا ہوا ایک حوصلہ یا کیا ہوا ایک احسان دل کے کسی کونے میں ہمیشہ محفوظ رہتا ہے۔ برسوں بعد بھی جب تنہائی دستک دیتی ہے تو وہی یادیں خاموشی کے پردے پر ابھر آتی ہیں۔ گونج صرف آواز کی بازگشت نہیں، احساس کی بقا بھی ہے۔ ایک استاد کے الفاظ کسی شاگرد کی پوری زندگی بدل سکتے ہیں، ماں کی دعا برسوں بعد بھی اولاد کے سفر میں سایہ بن کر ساتھ رہتی ہے، باپ کی نصیحت عمر کے کسی موڑ پر اچانک یاد آتی ہے اور انسان کو غلط راستے سے واپس کھینچ لاتی ہے۔ کسی اجنبی کی چھوٹی سی مدد بھی کبھی کبھی دل میں ایسی جگہ بنا لیتی ہے جہاں وقت کی کوئی دستک نہیں پہنچ پاتی۔ ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ ہماری بات ختم ہوگئی، ہمارا کردار ختم ہوگیا، ہمارا ایک لمحہ گزر گیا؛ مگر حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنے پیچھے بہت کچھ چھوڑ جاتا ہے۔ ہمارے لہجے، ہمارے فیصلے، ہماری محبتیں، ہماری سختیاں اور ہمارے رویے دوسروں کے دلوں میں اپنی اپنی گونج چھوڑتے ہیں۔ اسی لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی آواز کو پہچانیں۔ بولنے سے پہلے سوچیں کہ ہمارے الفاظ کسی کے دل پر بوجھ تو نہیں بنیں گے۔ قدم اٹھانے سے پہلے سوچیں کہ ہماری وجہ سے کسی کی راہ آسان ہوگی یا دشوار۔ زندگی مختصر ضرور ہے، مگر اس کے اثرات کبھی کبھی بہت طویل ہوتے ہیں۔ وقت گزر جاتا ہے، چہرے بدل جاتے ہیں، موسم ڈھل جاتے ہیں، مگر خلوص سے کہی ہوئی بات، محبت سے کیا ہوا سلوک اور انسانیت کے نام پر اٹھایا گیا ایک قدم دلوں میں دیر تک گونجتا رہتا ہے۔ شاید زندگی کی اصل کامیابی یہی ہے کہ جب ہماری آواز خاموش ہو جائے تو ہمارے کردار کی گونج باقی رہے۔

More posts