امریکی سینیٹر لنزے گراہم نے اسرائیلی میڈیا کو انٹرویو میں اعتراف کیا کہ ایران مشرق وسطیٰ میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، کیونکہ تہران کے پاس وسیع تعداد میں بیلسٹک میزائل موجود ہیں جو لانگ اور شارٹ رینج حملے کر سکتے ہیں۔ گراہم نے کہا کہ یہ میزائل امریکی فوجیوں کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں، جو موجودہ ایران-امریکا تناؤ کے تناظر میں ایک اہم بیان ہے جہاں فوجی تعیناتی بڑھ رہی ہے۔
یہ بیان جنوری 2026 سے جاری امریکی-ایرانی بحران کا حصہ ہے، جہاں گراہم نے ایران کے میزائل پروگرام کو اسرائیل اور امریکا کے لیے بڑا خطرہ قرار دیا—انہوں نے فوجی، سائبر اور نفسیاتی حملوں کی تجویز بھی دی تھی تاکہ ایران کی صلاحیت تباہ کی جائے۔ گراہم کا کہنا تھا کہ ایران کی میزائل پروڈکشن دوبارہ شروع ہو رہی ہے، جو آئرن ڈوم کو مغلوب کر سکتی ہے اور علاقائی استحکام کو چیلنج کر رہی ہے۔ یہ بیان ٹرمپ انتظامیہ کی ایران مخالف پالیسی کو مضبوط کرتا ہے۔
ایران امریکی اڈوں کو نشانہ بنا سکتا ہے : لنزے گراہم
