Baaghi TV

گوجرخان، بلدیہ کی جانب سے 55 پلازوں کو نوٹسز جاری

تجاوزات اور فائر سیفٹی جب عمارتیں بن رہی تھیں تو متعلقہ حکام کہاں سو رہے تھے؟ عوامی حلقوں کا تیکھا سوال
برسوں کی مجرمانہ خاموشی کے بعد اچانک نوٹسز کی بوچھاڑ سابقہ افسران کے خلاف بھی کارروائی کا عوامی مطالبہ

گوجرخان(قمرشہزاد) نوتعینات چیف آفیسر بلدیہ نے تحصیل میونسپل کمیٹی کی حدود میں برسوں سے قائم کمرشل پلازوں اور عمارتوں میں فائر سیفٹی آلات کی عدم دستیابی پر متعدد پلازوں کو نوٹسز جاری کر دئیے۔ اچانک شروع کی گئی کارروائی نے کئی سوالات کو جنم دے دیا ہے۔ چیف آفیسر طارق ضیاء ملک کی ہدایت پر اب تک 55 کمرشل پلازوں کو نوٹسز جاری کیے جا چکے ہیں، تاہم اس مہم نے جہاں حفاظتی اقدامات کی سنگینی کو اجاگر کیا ہے، وہاں انتظامیہ کی ماضی کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔ چیف آفیسر طارق ضیاء ملک کا کہنا ہے کہ فائر سیفٹی آلات کی تنصیب قانونی تقاضا ہے اور انسانی جانوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ مقررہ مدت میں حفاظتی انتظامات مکمل نہ کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی ہوگی۔ تاہم، عوامی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ صرف نوٹسز تک محدود رہنے کے بجائے ان کرپٹ یا غافل افسران کا بھی تعین کیا جائے جنہوں نے ان غیر قانونی تعمیرات اور حفاظتی اقدامات کی خلاف ورزی پر عرصہ دراز تک آنکھیں بند کیے رکھیں۔

شہری حلقوں کا مزید کہنا ہے کہ یہ عمارتیں کوئی ایک دن میں تعمیر نہیں ہوئیں، برسوں سے انسانی جانیں خطرے میں ڈال کر ان پلازوں میں تجارتی سرگرمیاں جاری تھیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ متعلقہ شعبے کے انسپکٹرز اور افسران اتنے طویل عرصے تک خوابِ خرگوش کے مزے کیوں لوٹتے رہے؟ کیا ان افسران کے خلاف کوئی محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی جنہوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے ان عمارتوں کو بغیر فائر سیفٹی آلات کے مکمل ہونے دیا؟ حالات کی سنگینی اس وقت مزید واضح ہو رہی ہے جب گزشتہ دنوں جی ٹی روڈ پر نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی جانب سے متعدد کمرشل بلڈنگز کی مارکنگ کی گئی، جس میں انکشاف ہوا کہ ان عمارتوں کا کچھ حصہ تجاوزات کی زد میں ہے۔ شہریوں نے تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب یہ نقشے پاس ہو رہے تھے اور بھاری سرمایہ کاری سے یہ بلند و بالا عمارتیں کھڑی کی جا رہی تھیں، تب این ایچ اے اور میونسپل کمیٹی کے متعلقہ محکمے کے افسران اور دیگر متعلقہ ادارے کہاں تھے؟

More posts