Baaghi TV

گوجر خان،اویس ملنگی کے والد کے الزامات حقائق کے منافی ہیں، پولیس ذرائع

crim

گوجرخان (قمرشہزاد) تھانہ گوجرخان پولیس پر ملزم اویس عرف ملنگی کی مبینہ گرفتاری اور بعد ازاں لاش ملنے کے الزامات کی وائرل ویڈیو کا معاملہ ۔ پولیس ذرائع نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو کو حقائق مسخ کرنے کی ناکام کوشش قرار دیتے ہوئے تمام الزامات کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق اویس عرف ملنگی کوئی عام شہری نہیں بلکہ ایک ضلعی ہسٹری شیٹر تھا، جس کے خلاف 2009 سے 2026 تک تھانہ گوجرخان، مندرہ، کلر سیداں، تھانہ ریس کورس، تھانہ سول لائن، تھانہ ایئرپورٹ، تھانہ رتا امرال، تھانہ نیو ٹاؤن، اور راولپنڈی کے دیگر تھانوں میں سنگین نوعیت کے درجنوں مقدمات درج ہیں۔ ملزم بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے دفتر میں بیواؤں کی امدادی رقوم لوٹنے کی حالیہ واردات میں گوجرخان پولیس کو مطلوب تھا۔ اس مقدمے میں گرفتار ہمراہی ملزم حیدر جو فی الوقت اڈیالہ جیل میں ہے اس نے بھی دورانِ تفتیش اویس ملنگی کے اس واردات میں ملوث ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے ہوشربا انکشافات کیے تھے۔ پولیس ذرائع نے دوٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ گوجرخان پولیس نے ملزم کو نہ تو گرفتار کیا اور نہ ہی اس کے ٹھکانے پر کوئی ریڈ کیا، الزامات کا مقصد محض پولیس پر دباؤ ڈالنا اور سنگین کیس کا رخ تبدیل کرنا ہے ایسے اوچھے ہتھکنڈوں سے پولیس کا مورال ڈاؤن نہیں کیا جا سکتا۔ جبکہ دوسری طرف دلچسپ امر یہ ہے کہ ملزم اویس ملنگی کی اپنی سوشل میڈیا پر کچھ ویڈیوز بھی منظرِ عام پر آئی ہیں جن میں وہ نہ صرف شہریوں کے نام لے کر انہیں ہراساں کر رہا ہے بلکہ فخریہ طور پر اعتراف کر رہا ہے کہ اس پر اقدامِ قتل، اغوا اور مخالفین کا سافٹ ویئر اپ ڈیٹ تشدد کرنے کے متعدد پرچے درج ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ریکارڈ یافتہ مجرم کی لاش دوسرے ضلع سے ملنے کے واقعے کو پولیس کے کھاتے میں ڈالنا قانون سے بچنے کی ایک ناکام کوشش ہے معاملے کی شفاف تحقیقات جاری ہیں۔

More posts