شمالی بھارت کی ریاست اتراکھنڈ میں ایک 42 سالہ جم مالک دیپک کمار نے مبینہ طور پر ہراساں کیے جانے والے 70 سالہ مسلمان دکان دار کے دفاع میں آگے آ کر نفرت انگیز رویے کے خلاف کھڑے ہو کر ملک میں مذہبی اتحاد کی ایک علامت قائم کر دی۔
26 جنوری کو دیپک کمار نے دیکھا کہ کچھ مردوں کا ایک گروہ دکان دار پر دباؤ ڈال رہا تھا کہ وہ اپنی مذہبی شناخت کی وجہ سے اپنی دکان کا نام بدل دے۔ دیپک کمار نے ہجوم سے کہا کہ بھارت میں ہر شہری کو مذہب سے قطع نظر مساوی سلوک حاصل ہونا چاہیے اور یہ حق ملک کے آئین میں محفوظ ہے۔
اس موقع پر جب ہجوم نے ان سے ان کا نام پوچھا، تو انہوں نے جواب دیا: ’میرا نام محمد دیپک ہے۔‘ یہ لمحہ سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا کیونکہ ان کے نام میں ہندو اور مسلم دونوں عناصر شامل ہیں؛ ’دیپک‘ سنسکرت سے ماخوذ ہے اور ’روشنی‘ کے معنی رکھتا ہے، جبکہ ’محمد‘ مسلم نام ہے۔
دیپک کمار کی مداخلت کے بعد مقامی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا اور مبینہ طور پر تقریباً ڈیڑھ سو افراد نے ان کے خلاف نعرے لگانے کے لیے جمع ہونا شروع کر دیا۔
دیپک کمار نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے بزرگ دکان دار کو دھمکانے والے نوجوانوں کو روکا اور کہا: ’میرا مقصد یہ تھا کہ میں ایک انڈین ہوں اور قانون کے تحت سب برابر ہیں۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ دکان دار کے نام ’بابا کلاتھس‘ کے لفظ ’بابا‘ پر تنازع پیدا ہوا، جو عام طور پر روحانی یا معزز افراد کے لیے استعمال ہوتا ہے اور ہندو یا مسلمان دونوں ہی اس لفظ کو استعمال کرتے ہیں۔ نوجوانوں کا دعویٰ تھا کہ یہ لفظ صرف ہندو دیوتا ہنومان کے لیے مختص ہونا چاہیے۔
دیپک کمار نے کہا کہ اس واقعے کے بعد انہیں دھمکیاں موصول ہوئیں اور ان کے جم ’ہلک جم‘ کے کلائنٹس کی تعداد تقریباً 150 سے گھٹ کر 15 رہ گئی، جس سے ان کی آمدنی متاثر ہوئی۔ انہوں نے مقامی میڈیا کو بتایا: ’آدھا شہر میری حمایت کرتا ہے، لیکن جب آپ اچھا کام کرتے ہیں تو ہر کوئی داد نہیں دیتا۔ ایمانداری کی قیمت چکانی پڑتی ہے۔‘
انڈیا میں مسلمان دکان دار کی حفاظت پر ہندو شہری کو موت کی دھمکیاں
