Baaghi TV

حفیظ سینٹر لاہور ایک سال میں تین بار آگ لگی،سیاست نہیں کی گئی۔شہلا رضا

shehla raza

پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما اور رکن قومی اسمبلی شہلا رضا نے کہا ہے کہ کسی بھی حادثے کے وقت یہ ضروری نہیں ہوتا کہ وزیراعلیٰ یا وزراء خود موقع پر پہنچیں، بلکہ سب سے اہم بات یہ ہوتی ہے کہ ریسکیو ادارے بروقت وہاں پہنچیں، متاثرین کی مدد کریں اور راستے کلیئر کیے جائیں تاکہ امدادی کارروائیوں میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں گل پلازا آتشزدگی کے واقعے پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے شہلا رضا نے کہا کہ یہ واقعہ ایک بڑا سانحہ بن گیا، تاہم وہ اس پر پوائنٹ اسکورنگ نہیں کرنا چاہتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے بجائے سنجیدگی سے اسباب اور نظامی خامیوں کا جائزہ لینا چاہیے،انہوں نے ایوان کو بتایا کہ گل پلازا کے اطراف ٹریفک کی صورتحال انتہائی خراب تھی، جس کے باعث ریسکیو کارروائیوں میں شدید مشکلات پیش آئیں۔ شہلا رضا کے مطابق گل پلازا کے 26 میں سے 24 راستے بند تھے، جس کی وجہ سے فائر بریگیڈ اور دیگر امدادی اداروں کو موقع پر پہنچنے میں رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑا۔

شہلا رضا نے گل پلازا کی تعمیر اور بعد ازاں ہونے والی توسیع پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ پلازا 1980 میں تعمیر کیا گیا تھا، جس کی بنیاد میں 180 دکانیں تھیں۔ بعد ازاں گراؤنڈ فلور پر 405 دکانیں اور پہلے فلور پر 175 دکانیں بنائی گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ 1998 میں مزید دکانیں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جس کے بعد پلازے میں پارکنگ ایریاز اور کوریڈورز میں بھی دکانیں بنا دی گئیں، جس سے عمارت کے ڈیزائن اور حفاظتی تقاضوں پر منفی اثر پڑا۔

پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی نے کہا کہ گل پلازا جیسے سانحات کا مقابلہ صرف کریمنل ایکٹ کے تحت نہیں کیا جا سکتا، خاص طور پر جب ایسے واقعات میں دو سے ڈھائی سو قیمتی جانیں ضائع ہو جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کے حادثات کے لیے جامع پالیسی، سخت بلڈنگ قوانین اور مؤثر عملدرآمد کی ضرورت ہے۔شہلا رضا نے عالمی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ نیوزی لینڈ میں آگ لگنے کے ایک واقعے میں 40 افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ امریکہ میں کیلیفورنیا کے جنگلات میں لگنے والی آگ اکثر رہائشی علاقوں تک پھیل جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آگ ایک ایسی آفت ہے جو کسی بھی وقت اور کہیں بھی لگ سکتی ہے، تاہم اصل مسئلہ تیاری اور حفاظتی انتظامات کا ہوتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ لاہور کے حفیظ سینٹر میں ایک سال کے دوران تین مرتبہ آگ لگ چکی ہے، لیکن اس پر کبھی سیاست نہیں کی گئی۔ شہلا رضا نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ عجیب رویہ ہے کہ ایک واقعے کو بنیاد بنا کر بات صوبوں، اٹھارویں ترمیم اور حتیٰ کہ بنیادی تعلیم تک لے جائی جا رہی ہے، جبکہ اصل توجہ انسانی جانوں کے تحفظ اور مستقبل میں ایسے سانحات کی روک تھام پر ہونی چاہیے،ملک بھر میں کمرشل عمارتوں کے لیے فائر سیفٹی قوانین پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے، تجاوزات کا خاتمہ کیا جائے اور ریسکیو اداروں کو جدید سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ آئندہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں قیمتی جانوں کو بچایا جا سکے۔

More posts