کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت سندھ کابینہ کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبائی وزراء، مشیران، معاونین خصوصی، چیف سیکریٹری سندھ اور مختلف محکموں کے متعلقہ سیکریٹریز نے شرکت کی۔
ترجمان وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق کابینہ اجلاس کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ قرآنِ پاک سے کیا گیا۔ اجلاس کے آغاز میں سانحہ گل پلازہ کے شہداء کے ایصالِ ثواب کے لیے دعا کی گئی۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سانحہ گل پلازہ نے پورے صوبے کو شدید دکھ اور صدمے سے دوچار کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت متاثرین کے ساتھ کھڑی ہے اور سندھ حکومت ہر صورت سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کی بحالی کو یقینی بنائے گی۔وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ انسانی جانوں کے ضیاع کا کوئی نعم البدل نہیں، تاہم حکومت اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کو ریلیف فراہم کرے گی۔ ترجمان کے مطابق سندھ کابینہ نے اجلاس میں کل 19 نکات پر غور کیا اور مختلف اہم فیصلے کیے۔ کابینہ نے گزشتہ اجلاس کے منٹس کی بھی منظوری دے دی۔
اجلاس کے دوران سندھ رینیوایبل انرجی کمپنی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بتایا گیا کہ یہ کمپنی 2012ء میں قائم کی گئی تھی اور اس میں اب تک 101.622 ملین روپے کی سرمایہ کاری کی جا چکی ہے۔ بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ کمپنی کے تمام عملی اور انتظامی امور پہلے ہی محکمہ توانائی (انرجی ڈپارٹمنٹ) انجام دے رہا ہے، جس کے باعث کمپنی کی علیحدہ حیثیت کی عملی ضرورت باقی نہیں رہی۔کابینہ نے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد سندھ رینیوایبل انرجی کمپنی کو بند کرنے کی منظوری دے دی۔
محکمہ جنگلات سے متعلق ایجنڈا آئٹم پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ڈپٹی کمشنر حیدرآباد نے درخواست کی ہے کہ دیھ بیلو میانو میں 6 ایم جی ڈی واٹر فلٹریشن پلانٹ کے قیام کے لیے 400 ایکڑ اراضی مختص کی جائے۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ میئر حیدرآباد اس منصوبے کے تحت فلٹریشن پلانٹ لگانا چاہتے ہیں، جس سے شہر میں پانی کے دیرینہ مسئلے کے حل میں مدد ملے گی۔کابینہ نے تفصیلی غور و خوض کے بعد فیصلہ کیا کہ 400 ایکڑ کے بجائے 100 ایکڑ جنگلاتی اراضی حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کو دی جائے گی۔ مزید یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ محکمہ بلدیات اس کے عوض محکمہ جنگلات کو شجرکاری کے لیے 100 ایکڑ متبادل زمین فراہم کرے گا، تاکہ ماحولیاتی توازن برقرار رکھا جا سکے۔اجلاس کے اختتام پر وزیراعلیٰ سندھ نے ہدایت دی کہ کابینہ کے تمام فیصلوں پر بروقت عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے اور عوامی فلاح و بہبود سے متعلق منصوبوں میں کسی قسم کی تاخیر نہ کی جائے
