پاکستان سپر لیگ میں حیدرآباد کنگزمین کے بیٹر حسان خان نے کہا ہے کہ شاید ان کے نصیب میں پاکستان کی نمائندگی کرنا نہیں لکھا تھا، تاہم وہ اپنے کیریئر اور فیصلوں سے مطمئن ہیں۔
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حسان خان کا کہنا تھا کہ انہیں کسی سے کوئی شکایت نہیں اور وہ اپنی موجودہ کرکٹ سے خوش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کی لیگز میں کھیلنے کا موقع مل رہا ہے اور وہاں انہیں عزت بھی دی جا رہی ہے، جو ان کے لیے باعث اطمینان ہے۔
حسان خان نے کہا کہ ان کی پہچان پی ایس ایل اور پاکستان انڈر 19 ٹیم کی قیادت کی وجہ سے بنی، جہاں انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ان کا کیریئر پاکستان سے ہی شروع ہوا اور وہی ان کے لیے بنیاد ثابت ہوا۔
انہوں نے بتایا کہ امریکا منتقل ہونے کا فیصلہ اچانک کیا گیا اور یہ تمام معاملات صرف 10 سے 15 دن کے اندر طے پا گئے۔ اس فیصلے نے ان کے کیریئر کو ایک نئی سمت دی، جہاں انہیں مزید مواقع ملے۔
واضح رہے کہ حسان خان نے آسٹریلیا کی بگ بیش لیگ میں بھی شاندار کارکردگی دکھائی، جہاں ان کی بیٹنگ نے خاصی توجہ حاصل کی۔ سابق فاسٹ بولر محمد عامر نے بھی ان کی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے انہیں ایک بہترین بیٹر قرار دیا تھا۔
حسان خان ماضی میں پاکستان انڈر 19 ٹیم کے کپتان رہ چکے ہیں اور پی ایس ایل میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی نمائندگی بھی کر چکے ہیں، تاہم قومی ٹیم میں مواقع نہ ملنے کے باعث انہوں نے بیرون ملک کھیلنے کا راستہ اختیار کیا۔
شاید پاکستان کیلئے کھیلنا نصیب میں نہیں تھا: حسان خان
