ملکہ کوہسار مری میں گزشتہ رات سے شروع ہونے والی برفباری میں شدت آ گئی ہے، جس کے باعث مختلف علاقوں میں نظامِ زندگی متاثر ہو گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق برف ہٹانے کے لیے اضافی عملہ اور مشینری طلب کر لی گئی ہے جبکہ تقریباً 5 ہزار سیاحوں کو محفوظ طریقے سے نکالنے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔
وزیرِ مواصلات پنجاب ملک صہیب بھرتھ کا کہنا ہے کہ مری کی مرکزی سڑکیں بحال ہیں اور حکومت پنجاب کے تمام متعلقہ ادارے مکمل طور پر متحرک ہیں۔ ان کے مطابق تمام مشینری فیلڈ میں موجود ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔
شدید برفباری کے باعث جھیکا گلی اور گردونواح میں معمولاتِ زندگی مفلوج ہو چکے ہیں، جبکہ سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ڈی پی او مری ڈاکٹر رضا تنویر کے مطابق شدید برفباری، بارش اور پھسلن کے باعث ہنگامی صورتحال نافذ کر دی گئی ہے۔ پولیس اور ریسکیو ادارے شہریوں اور سیاحوں کے محفوظ انخلا کے لیے ریسکیو آپریشن میں مصروف ہیں۔ حدِ نگاہ صفر ہونے کے باعث مری کی جانب سفر نہ کرنے کی ٹریول ایڈوائزری جاری کی گئی ہے۔
برفانی طوفان کے پیشِ نظر مری میں مزید گاڑیوں کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، جبکہ بھارہ کہو اور سترہ میل کے مقامات پر رکاوٹیں لگا دی گئی ہیں۔ سی ٹی او حمزہ ہمایوں کے مطابق ضلعی انتظامیہ اور پولیس ہائی الرٹ ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ سیاحت کے خلاف نہیں، تاہم انسانی جانوں کا تحفظ اولین ترجیح ہے اور آخری سیاح کے محفوظ انخلا تک ریسکیو سرگرمیاں جاری رہیں گی۔
مری میں شدید برفباری میں اضافہ، ہنگامی صورتحال نافذ، سیاحوں کے داخلے پر پابندی
