ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں تیزی آ گئی ہے، جس کے نتیجے میں پاسدارانِ انقلاب کے انٹیلی جنس چیف سمیت 40 سے زائد افراد شہید ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق بمباری میں پاسدارانِ انقلاب کے انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل مجید خادمی بھی شہید ہو گئے، جنہیں 2025 میں اس عہدے پر تعینات کیا گیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق تہران کے ایک رہائشی علاقے پر حملے میں 15 شہری جاں بحق ہوئے جبکہ 4 مکانات مکمل طور پر تباہ اور 40 سے زائد گھروں کو نقصان پہنچا۔ مجموعی طور پر آج شہید ہونے والوں کی تعداد 49 تک پہنچ گئی ہے۔
حملوں کے دوران تہران کی معروف شریف یونیورسٹی کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے باعث عمارت کو شدید نقصان پہنچا۔
دوسری جانب لبنان کے دارالحکومت بیروت میں اسرائیلی حملے میں ایک رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں 8 افراد شہید اور 55 زخمی ہو گئے۔
ادھر ایران نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل پر میزائل حملے جاری رکھے، تل ابیب میں 15 مختلف مقامات کو نشانہ بنایا گیا جبکہ حیفا میں میزائل حملے کے نتیجے میں 4 افراد ہلاک ہوئے، جس کی تصدیق اسرائیلی حکام نے بھی کی ہے۔
ماہرین کے مطابق دونوں جانب سے حملوں کی شدت خطے کو ایک بڑے اور طویل تنازع کی طرف دھکیل سکتی ہے، جس کے اثرات عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
ایران پر شدید حملے، انٹیلی جنس چیف سمیت درجنوں افراد شہید
