آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی نے جہاں تیل کی عالمی سپلائی کو متاثر کیا ہے، وہیں اب ہیلیم جیسے اہم وسائل کی فراہمی بھی خطرے میں پڑ گئی ہے، جو جدید ٹیکنالوجی اور طبی سہولیات کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
ماہرین کے مطابق دنیا کی بڑی مقدار میں ہیلیم خلیجی خطے خصوصاً قطر سے برآمد ہوتا ہے، اور اس کی ترسیل کا بڑا حصہ آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتا ہے۔ موجودہ کشیدہ صورتحال کے باعث سپلائی چین متاثر ہو رہی ہے، جبکہ ہیلیم کو طویل عرصے تک ذخیرہ کرنا ممکن نہیں، جس کی وجہ سے عالمی سطح پر صرف 40 سے 45 دن کا محدود اسٹاک موجود ہوتا ہے۔
ہیلیم کی قلت کے ممکنہ اثرات انتہائی سنگین ہو سکتے ہیں۔ طبی شعبے میں ایم آر آئی مشینیں ہیلیم کے بغیر کام نہیں کر سکتیں، جس سے اسپتالوں میں تشخیصی عمل متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ اسی طرح سیمی کنڈکٹر اور کمپیوٹر چپس کی تیاری میں بھی ہیلیم بنیادی جز کے طور پر استعمال ہوتا ہے، جس سے ٹیکنالوجی انڈسٹری کو بڑا دھچکا لگ سکتا ہے۔
مزید برآں خلائی پروگرامز، راکٹ لانچنگ سسٹمز اور سائنسی تحقیق میں بھی ہیلیم کلیدی کردار ادا کرتا ہے، اور اس کا کوئی متبادل دستیاب نہیں ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ بحران طویل ہوا تو نہ صرف ٹیکنالوجی بلکہ عالمی صحت کا نظام بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق دنیا نے تیل کے لیے تو اسٹریٹجک ذخائر بنا لیے ہیں، لیکن ہیلیم جیسے حساس وسائل کے لیے کوئی مؤثر عالمی نظام موجود نہیں، جو مستقبل میں بڑے بحران کا سبب بن سکتا ہے۔
ہیلیم بحران کا خطرہ، ٹیکنالوجی اور طبی نظام متاثر ہونے کا امکان
