بھارت میں نفرت انگیز بیانات کے حوالے سے متنازع شہرت رکھنے والے ہندو مذہبی رہنما یتی نرسمہا نند ایک بار پھر سخت تنقید کی زد میں آ گئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک بیان میں یتی نرسمہا نند نے ہندو برادری سے انتہائی اشتعال انگیز اور خطرناک اپیل کرتے ہوئے کہا کہ “تلواریں تقسیم کرنے کا کوئی فائدہ نہیں، ہندوؤں کو خودکش گروپس تیار کرنے چاہئیں۔”
یہ بیان ہندی زبان میں دیا گیا، جس نے ملک بھر میں سیاسی، سماجی اور انسانی حقوق کے حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ذرائع کے مطابق یتی نرسمہا نند کا یہ بیان نہ صرف فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے خطرہ قرار دیا جا رہا ہے بلکہ اسے کھلی طور پر تشدد اور انتہا پسندی کو ہوا دینے کے مترادف بھی سمجھا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ کسی مذہبی رہنما کی جانب سے “خودکش” جیسی اصطلاحات اور گروپس بنانے کی بات کرنا قانون، آئین اور انسانی اقدار کی صریح خلاف ورزی ہے۔
بیان سامنے آتے ہی مختلف سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی اور اقلیتی تنظیموں نے شدید مذمت کی ہے۔ رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ یتی نرسمہا نند کے خلاف فوری طور پر فوجداری مقدمہ درج کیا جائے اور نفرت انگیز تقاریر کے قوانین کے تحت سخت کارروائی کی جائے۔انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات معاشرے میں خوف، نفرت اور تشدد کو فروغ دیتے ہیں اور اس کے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں۔
