Baaghi TV

مزاکرات کو لے کر آبنائے ہرمز پر ایران کا واضح اور دو ٹوک موقف

‎ایرانی حکام نے ثالثی کرنے والے ممالک کو واضح طور پر پیغام دیا ہے کہ وہ کسی ایسے معاہدے کا حصہ نہیں بننا چاہتے جو غزہ یا لبنان جیسی صورتحال پیدا کرے، جہاں بظاہر جنگ بندی ہو لیکن امریکا اور اسرائیل کو جب چاہیں دوبارہ حملے کی آزادی حاصل ہو۔
‎رپورٹس کے مطابق ایران اس وقت آبنائے ہرمز پر اپنے کنٹرول کو ایک اہم دفاعی اور معاشی ہتھیار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ ایرانی مؤقف یہ ہے کہ عالمی معیشت میں خلل ڈالنے کی صلاحیت مستقبل میں کسی بھی ممکنہ جارحیت کو روکنے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایران اس اہم گزرگاہ کو آمدنی کے ایک بڑے ذریعے کے طور پر بھی استعمال کرنا چاہتا ہے۔
‎دوسری جانب امریکا اور خلیجی ممالک کے لیے ایسی کوئی ڈیل قابل قبول نہیں جس میں ایران آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول برقرار رکھے۔ امریکی مذاکرات کاروں کا خیال ہے کہ ایران کو اس کنٹرول کو بطور سودے بازی استعمال کرتے ہوئے سکیورٹی ضمانتیں اور اقتصادی فوائد حاصل کرنے چاہئیں۔
‎تاہم ایرانی حکام اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آبنائے ہرمز خود ہی ان کے لیے سکیورٹی اور معاشی طاقت کا بنیادی ذریعہ ہے، جسے کسی صورت چھوڑا نہیں جا سکتا۔
‎ماہرین کے مطابق یہ معاملہ آئندہ مذاکرات میں سب سے بڑا تنازع بن سکتا ہے کیونکہ دونوں فریقین اسے اپنے مفادات کے لیے انتہائی اہم سمجھتے ہیں۔ اس صورتحال نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے اور عالمی سطح پر بھی اس کے اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں۔

More posts