معصوم بچوں کے خلاف بڑھتے ہوئے جرائم پر ایک سوال
کبھی کبھی انسان کسی خبر کو پڑھتا ہے اور چند لمحوں کے لیے الفاظ اس کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔ دل چاہتا ہے کہ آنکھیں بند کر لیں، کان بند کر لیں اور خود کو یقین دلائں کہ یہ سب حقیقت نہیں بلکہ کوئی برا خواب ہے۔ مگر پھر ایک اور خبر سامنے آتی ہے، ایک اور معصوم بچی ظلم کا شکار ہوتی ہے۔ اور ہمیں احساس ہوتا ہے کہ یہ خواب نہیں، ہماری معاشرتی حقیقت ہے۔
آج سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ظلم کا شکار ہونے والے بچے دن بدن کم عمر ہوتے جا رہے ہیں۔ ایسے معصوم بچے جو ابھی دنیا کو سمجھنا تو دور، اپنے اردگرد کے رشتوں کو پہچاننے کے قابل بھی نہیں ہوتے ہیں۔ وہ بھی درندہ صفت انسانوں کی ہوس سے محفوظ نہیں رہے۔ذرا سوچیے! جس عمر میں بچے کو ماں کی گود دنیا کی سب سے محفوظ جگہ محسوس ہونی چاہیے اگر اسی عمر میں کوئی اس معصومیت کو پامال کر دے تو اس سے بڑا المیہ کیا ہو سکتا ہے؟یہ صرف ایک بچے کے ساتھ زیادتی نہیں ہوتی۔ یہ پورے معاشرے کے ضمیر پر حملہ ہوتا ہے۔ہم اکثر ایسے واقعات کے بعد چند دن تک غم و غصے کا اظہار کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر پوسٹیں لگتی ہیں، مذمت کی جاتی ہے، انصاف کے مطالبے کیے جاتے ہیں، پھر وقت گزرتا ہے اور ہم کسی نئی خبر کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف مذمت کافی ہے؟
اگر کوئی شخص کسی معصوم بچے کو اپنی درندگی کا نشانہ بناتا ہے تو اسے سزا ملنا محض قانونی تقاضا نہیں، معاشرے کے تحفظ کی ضرورت ہے۔ اور اگر کوئی مجرم گرفتار ہونے کے باوجود کسی قانونی سقم، کمزور تفتیش یا تاخیر کے باعث دوبارہ آزاد ہو جائے تو یہ صرف ایک مقدمے کی ناکامی نہیں، کسی دوسرے معصوم کے مستقبل کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ بچوں کی حفاظت صرف پولیس، عدالت یا حکومت کی ذمہ داری نہیں۔ والدین، اساتذہ، رشتہ دار اور پورا معاشرہ اس ذمہ داری میں شریک ہیں۔بچوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ کوئی بھی شخص، چاہے وہ کتنا ہی قریبی کیوں نہ ہو، انہیں کسی ایسے لمس یا رویے پر مجبور نہیں کر سکتا جس سے وہ خوفزدہ یا غیر محفوظ محسوس کریں۔ بچوں کی بات کو سننا ہوگا، ان کے سوالات کو نظرانداز نہیں کرنا ہوگا اور ان کے رویے میں اچانک آنے والی تبدیلی کو سنجیدگی سے لینا ہوگا۔
سب سے بڑھ کر ہمیں اپنی خاموشی توڑنی ہوگی۔
ایسے واقعات میں اکثر معاشرہ بدنامی کے خوف سے متاثرہ خاندان کو خاموش رہنے کا مشورہ دیتا ہے۔ لیکن ہمیں سوچنا چاہیے کہ بدنام کون ہونا چاہیے؟ وہ معصوم بچہ یا وہ شخص جس نے اس کی معصومیت پامال کی؟
ہمیں اپنی سوچ بدلنی ہوگی۔کسی بچے کے ساتھ ظلم ہو تو انگلیاں بچے یا اس کے خاندان پر نہیں، مجرم کی طرف اٹھنی چاہئیں۔ متاثرہ بچے کو الزام نہیں، تحفظ چاہیے؛ سوال نہیں، سہارا چاہیے؛ خاموشی نہیں، انصاف چاہیے۔
اور ریاستی اداروں سے بھی ایک بنیادی سوال ہے:
کیا ایسے جرائم کے مقدمات کو اس قدر مؤثر اور بروقت بنایا جا سکتا ہے کہ مجرم کو قانون کی کمزوری کا فائدہ اٹھانے کا موقع ہی نہ ملے؟ہمیں ایسا نظام چاہیے جہاں گرفتاری صرف خبر نہ بنے، بلکہ تفتیش، عدالتی کارروائی اور سزا تک معاملہ پوری سنجیدگی سے پہنچے۔ قانون کا خوف صرف کتابوں میں نہیں، مجرم کے ذہن میں بھی نظر آنا چاہیے۔ہم اپنے بچوں کو مہنگے اسکول دے رہے ہیں، موبائل فون دے رہے ہیں، خوبصورت کمرے دے رہے ہیں، مگر کیا ہم انہیں محفوظ معاشرہ بھی دے پا رہے ہیں؟
یہ سوال صرف حکومت سے نہیں، ہم سب سے ہے۔
آج اگر ہم نے اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے آواز نہ اٹھائی، اگر ہم نے ایسے مجرموں کے خلاف اجتماعی طور پر کھڑے ہونے کے بجائے چند دن بعد خاموشی اختیار کر لی، تو شاید کل کوئی اور خبر ہماری روح کو زخمی کرے گی۔
بچپن کسی کی ہوس کی قیمت نہیں۔
بچے قوم کا مستقبل کہنے سے پہلے یہ یقینی بنانا ہوگا کہ وہ آج محفوظ ہیں۔
آئیے کم از کم اتنا عہد کریں کہ کسی معصوم کی آواز کو خاموش نہیں ہونے دیں گے، کسی ظلم کو معمول نہیں سمجھیں گے اور کسی مجرم کو صرف اس لیے بھول نہیں جائیں گے کہ خبر پرانی ہو گئی ہے۔
کیونکہ سوال آج بھی وہیں کھڑا ہے:
ہم بچوں کو کب محفوظ کریں گے؟
