امریکہ میں ہم جنس جوڑوں کی تعداد میں تاریخی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جبکہ پہلی بار خواتین پر مشتمل ہم جنس جوڑے مردوں سے زیادہ ہو گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سن 2005 میں ہم جنس جوڑوں میں مردوں کا تناسب زیادہ تھا، جہاں 54 فیصد جوڑے مردوں پر مشتمل تھے جبکہ خواتین کا حصہ 45 فیصد تھا۔ اس وقت قانونی طور پر ہم جنس شادی صرف ایک ریاست میساچوسٹس میں تسلیم شدہ تھی۔تاہم دو دہائیوں میں صورتحال یکسر تبدیل ہو گئی۔ 2024 تک خواتین ہم جنس جوڑوں کا تناسب بڑھ کر 53 فیصد ہو گیا جبکہ مرد جوڑوں کا تناسب 46 فیصد رہ گیا۔ ماہرین کے مطابق اس تبدیلی میں سن 2015 میں ہم جنس شادی کو ملک بھر میں قانونی حیثیت ملنا ایک اہم سنگ میل ثابت ہوا۔
رپورٹ کے مطابق 2024 تک امریکہ میں ہم جنس جوڑوں کے گھرانوں کی تعداد تقریباً 1.4 ملین تک پہنچ گئی، جو کہ 2005 کے مقابلے میں دوگنا ہے۔ یہ تعداد ملک کے مجموعی گھرانوں کا تقریباً 1 فیصد بنتی ہے۔دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ شرح اب بھی اس مجموعی آبادی سے کم ہے جو خود کو LGBTQ+ شناخت کرتی ہے، جس کا اندازہ تقریباً 9 فیصد لگایا گیا ہے، جبکہ تقریباً 5 فیصد امریکی خود کو بائی سیکسوئل قرار دیتے ہیں۔
اعداد و شمار میں ایک اہم پہلو معاشی عدم مساوات بھی سامنے آیا۔ خواتین ہم جنس جوڑوں کی اوسط سالانہ گھریلو آمدنی تقریباً 108,500 ڈالر رہی، جبکہ مرد جوڑوں کی آمدنی اس سے کہیں زیادہ یعنی 140,500 ڈالر رہی۔تاہم ملازمت کے حوالے سے دونوں اقسام کے جوڑوں میں تقریباً یکساں شرح دیکھی گئی، جہاں تقریباً 64 فیصد جوڑوں میں دونوں پارٹنرز ملازمت پیشہ تھے۔رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ ہم جنس جوڑے تعلیمی اعتبار سے اپنے مخالف جنس ہم منصبوں سے آگے ہیں۔ تقریباً 32.5 فیصد ہم جنس غیر شادی شدہ جوڑوں میں دونوں افراد کم از کم بیچلر ڈگری رکھتے ہیں، جبکہ مخالف جنس جوڑوں میں یہ شرح 19.1 فیصد ہے۔مزید برآں، ہم جنس شادی شدہ جوڑوں میں نسلی تنوع بھی زیادہ پایا گیا، جہاں 31.3 فیصد جوڑے مختلف نسلی پس منظر رکھتے ہیں، جبکہ مخالف جنس جوڑوں میں یہ شرح 19.5 فیصد ہے۔
رپورٹ کے مطابق شادی شدہ ہم جنس جوڑے اوسطاً کم عمر ہیں (49 سال) جبکہ شادی شدہ مخالف جنس جوڑوں کی اوسط عمر 53.2 سال ہے۔ غیر شادی شدہ جوڑوں میں عمر کا فرق تقریباً برابر رہا۔اعداد و شمار کے مطابق واشنگٹن ڈی سی میں ہم جنس جوڑوں کے گھرانوں کی شرح سب سے زیادہ رہی، جس سے اس شہر کی بطور LGBTQ+ کمیونٹی کے مرکز کی شہرت مزید مستحکم ہو گئی۔یہ اعداد و شمارامریکن کمیونٹی سروے کے تحت 2005 سے 2024 تک جمع کیے گئے، تاہم 2020 میں کووڈ-19 وبا کے باعث ڈیٹا اکٹھا کرنے میں مشکلات پیش آئیں۔ماہرین کے مطابق یہ رجحانات نہ صرف سماجی قبولیت میں اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں بلکہ امریکی معاشرے میں خاندانی ساخت میں ہونے والی بڑی تبدیلیوں کو بھی ظاہر کرتے ہیں۔
