Baaghi TV


ایران میں اسکول پر حملہ جنگی جرم ہو سکتا ہے، ہیومن رائٹس واچ کی تحقیقات کا مطالبہ


انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے جنوبی ایران میں ایک اسکول پر ہونے والے حملے کو ممکنہ جنگی جرم قرار دیتے ہوئے اس کی فوری اور مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
تنظیم کے مطابق 28 فروری 2026 کو صوبہ ہرمزگان کے شہر مناب میں واقع شجرہ طیبہ پرائمری اسکول کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں تقریباً ڈیڑھ سو بچوں سمیت مجموعی طور پر 160 افراد جان سے گئے۔
‎یہ حملہ اس وقت ہوا جب ایران کے مختلف علاقوں میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے فضائی حملوں کی لہر جاری تھی۔ تاہم امریکا اور اسرائیل نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی جبکہ اسرائیلی فوج کے ترجمان نے کہا کہ انہیں اس علاقے میں کسی کارروائی کا علم نہیں۔
‎ہیومن رائٹس واچ کے مطابق اسکول پاسداران انقلاب کی بحریہ کے ایک کمپاؤنڈ کے قریب واقع ہے لیکن معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسکول اس کمپاؤنڈ سے الگ تھا اور اس کا اپنا داخلی راستہ تھا۔
‎تنظیم کی ڈیجیٹل انویسٹیگیشنز لیب کی محقق صوفیہ جونز نے کہا کہ حملے کے انداز سے ظاہر ہوتا ہے کہ عمارتوں کو درست نشانے والے گائیڈڈ ہتھیاروں سے نشانہ بنایا گیا۔ ان کے مطابق ضروری ہے کہ تحقیقات میں یہ معلوم کیا جائے کہ حملہ کرنے والوں کو کیا اس بات کا علم تھا کہ اس عمارت میں اسکول موجود ہے اور وہاں بچے اور اساتذہ موجود ہوں گے۔
‎ہیومن رائٹس واچ نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر حملہ غیر قانونی ثابت ہو تو اس کے ذمہ دار افراد کے خلاف جنگی جرائم کے تحت کارروائی کی جائے۔

More posts