امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے حوالے سے اپنے رویے میں لچک کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ کسی تصفیے تک پہنچنے کے خواہاں ہیں۔ جنیوا مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے واضح کیا کہ اگرچہ وہ ایران کی موجودہ پالیسیوں سے خوش نہیں ہیں، تاہم مزید بات چیت کا دروازہ کھلا ہے۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، تاہم انہوں نے اس معاملے پر تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ امریکی صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ فوجی طاقت کے استعمال کے حامی نہیں ہیں، لیکن قومی مفادات کے تحفظ کے لیے اگر ضرورت پڑی تو یہ آپشن بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب، جنیوا مذاکرات کے بعد ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی مثبت پیش رفت کا عندیہ دیا ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، عراقچی نے مذاکرات کے دوران ہونے والی پیش رفت کو حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے بتایا کہ امریکا کے ساتھ بات چیت مثبت سمت میں آگے بڑھ رہی ہے اور دونوں ممالک ایک ممکنہ معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ کچھ نکات پر تاحال اختلافات موجود ہیں، لیکن جوہری پروگرام اور پابندیوں کے حوالے سے ایک مفاہمت کا خاکہ تیار ہو چکا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق، یہ پیش رفت خطے کو ممکنہ جنگ اور بڑی تباہی سے بچانے کے لیے انتہائی اہم ثابت ہو سکتی ہے۔
ایران سے مزاکرات کرنا چاہتا ہوں : ڈونلڈ ٹرمپ
