اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مقبوضہ بیت المقدس میں مسلمانوں اور مسیحیوں کی عبادت کی آزادی پر اسرائیلی پابندیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں یکسر مسترد کر دیا ہے۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ، سعودی عرب اور قطر کے وزرائے خارجہ کے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے مسلمانوں کو مسجد اقصیٰ،الحرم الشریف تک رسائی سے روکنا اور مسیحی رہنماؤں کو چرچ آف دی ہولی سیپلکر میں پام سنڈے کی عبادات سے منع کرنا قابل مذمت ہے،اعلامیے میں کہا گیا کہ اسرائیل کی جانب سے بیت المقدس میں مسلم اور مسیحی مقدس مقامات کی قانونی و تاریخی حیثیت کو تبدیل کرنے کی ہر کوشش ناقابل قبول ہے،وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قوانین، بشمول بین الاقوامی انسانی قوانین، کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور عبادت گاہوں تک بلا رکاوٹ رسائی کے بنیادی حق کی نفی کرتے ہیں۔
انہوں نے بیت المقدس میں مسلمانوں اور مسیحیوں کے خلاف اسرائیلی پابندیوں کو غیر قانونی اور مسترد کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ شہر کے مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کا احترام کیا جائے۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ بطور قابض طاقت اسرائیل کو مقبوضہ بیت المقدس پر کوئی خودمختاری حاصل نہیں،وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ،الحرم الشریف کے دروازے مسلسل 30 روز تک بند رکھنے، حتیٰ کہ ماہ رمضان کے دوران بھی، اور عبادت کی آزادی کو محدود کرنے کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے اقدامات علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے میں اس امر کا اعادہ کیا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم پر مشتمل احاطہ صرف مسلمانوں کی عبادت کے لیے مخصوص ہے، جبکہ اس کے انتظام و انصرام کا مکمل اختیار اردن کی وزارت اوقاف کے تحت بیت المقدس اوقاف اور مسجد اقصیٰ امور کے ادارے کے پاس ہے،وزرائے خارجہ نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر مسجد اقصیٰ کے دروازے کھولے، بیت المقدس کے قدیم شہر میں عائد پابندیاں ختم کرے اور عبادت گزاروں کی رسائی میں رکاوٹیں ڈالنے سے باز رہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کو مقدس اسلامی و مسیحی مقامات کے خلاف جاری خلاف ورزیاں اور غیر قانونی اقدامات روکنے پر مجبور کرے۔
