گلگت بلتستان کے پُرفضا مگر حساس علاقے تانگیر بوشیداس میں جمعرات 12 فروری 2026 کو دہشت گردی کا ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کی گاڑی کو دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈی) کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق حملہ آوروں کا تعلق فتنہ الخوارج سے بتایا جا رہا ہے،
ایف ڈبلیو او کے اہلکار تانگیر ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے معمول کے دورے کے بعد گلگت واپس جا رہے تھے کہ پہلے سے نصب آئی ای ڈی کو ریموٹ کنٹرول کے ذریعے دھماکے سے اڑا دیا گیا۔ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ گاڑی تباہ ہوگئی ،حملے کے وقت گاڑی میں ایک میجر اور تین فوجی اہلکار سوار تھے۔ شدید زخمی ہونے والے ڈرائیور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گئے، جبکہ میجر سمیت دیگر اہلکار زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے اور انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔واقعے کے فوراً بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر جوابی کارروائی کا آغاز کیا۔ فائرنگ کے تبادلے میں دو دہشت گرد مارے گئے۔ بعد ازاں سرچ آپریشن کے دوران مزید چار مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا جن سے تفتیش جاری ہے۔
تانگیر اور اس سے ملحقہ علاقوں میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے، جبکہ داخلی و خارجی راستوں پر چیکنگ کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کی اس بزدلانہ کارروائی کا مقصد ترقیاتی منصوبوں کو سبوتاژ کرنا اور خطے کے امن کو متاثر کرنا ہے، تاہم سیکیورٹی ادارے اس عزم کا اعادہ کر رہے ہیں کہ ایسے عناصر کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔
یاد رہے کہ ایف ڈبلیو او گلگت بلتستان سمیت ملک کے مختلف حصوں میں اہم انفراسٹرکچر اور توانائی منصوبوں پر کام کر رہی ہے،حکام نے شہید اہلکار کی قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز اور متعلقہ ادارے پوری قوت کے ساتھ سرگرم ہیں اور ملک دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں بلا امتیاز جاری رہیں گی
