عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے پاکستان سے سخت ترین مانیٹری پالیسی اپنانے کا مطالبہ کیا ہے، جس کے باعث آئندہ دنوں میں شرح سود میں مزید اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے تناظر میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو سخت مالیاتی پالیسی برقرار رکھنے کی ہدایت کی ہے۔
آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ خطے میں جاری تنازعات کے باعث افراطِ زر میں اضافے کا شدید خدشہ ہے، جس کے اثرات پاکستان سمیت دیگر معیشتوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
عالمی ادارے نے واضح کیا ہے کہ اگر مہنگائی میں مزید اضافہ ہوا تو اس کے مطابق شرح سود میں بھی اضافہ کرنا ہوگا تاکہ معیشت کو مستحکم رکھا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف اسٹیٹ بینک کے فیصلوں کی مسلسل نگرانی کرے گا تاکہ طے شدہ اہداف حاصل کیے جا سکیں۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں ترسیلات زر بڑھانے کے لیے ایک خصوصی ایکشن پلان تیار کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد ملک میں ڈالر کی آمد کو مستحکم کرنا ہے۔
توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ یہ پلان مئی 2026 تک مکمل کر لیا جائے گا، جس سے معیشت کو سہارا ملنے اور مالیاتی نظام کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔
آئی ایم ایف کا سخت مانیٹری پالیسی کا مطالبہ، شرح سود بڑھنے کا خدشہ
