Baaghi TV

قوی امکان ہےایران مذاکرات میں شریک ہو گا،ماہرین

pak

پاکستان میں امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ دوسرے دور کے مذاکرات کے حوالے سے سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں، جبکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سخت سیکیورٹی انتظامات نافذ کر دیے گئے ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق قطری تجزیہ کار راشد المحنادی نے کہا ہے کہ موجودہ کشیدہ صورتحال کے باوجود اس بات کا قوی امکان ہے کہ ایران اس ہفتے پاکستان میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت کرے گا۔ ان کے مطابق ایران کے پاس جنگ یا مذاکرات کے علاوہ زیادہ آپشنز باقی نہیں رہے۔انہوں نے کہا کہ تہران مذاکرات چاہتا ہے، تاہم وہ ایسے شرائط پر بات چیت کا خواہاں ہے جن پر اب بھی امریکا اور ایران کے درمیان اختلافات موجود ہیں۔

دوسری جانب امریکی حکام کے بھی مذاکرات میں شرکت کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے، تاہم ایران کی جانب سے تاحال باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔ بعض ایرانی ذرائع ابلاغ نے مذاکرات کے انعقاد پر شکوک ظاہر کیے ہیں، جبکہ دیگر ذرائع کے مطابق ایرانی وفد منگل کو پاکستان پہنچ سکتا ہے۔علاوہ ازیں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے نیوزکانفرنس میں کہا کہ ایران اپنے مفادات کا تحفظ جاری رکھے گا، ایران کا اب تک امریکا سے مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت کا پلان نہیں ہے، مذاکرات کیلئے فی الحال پاکستان جانے کا ارادہ نہیں، ثالث کار پاکستان کو بتادیا، امریکا اب بھی غیر حقیقی مطالبات پر اصرار کررہا ہے۔

راشد المحنادی نے آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی جانب سے راستہ کھولنے کا اقدام ممکنہ طور پر اعتماد سازی کی کوشش تھی، تاہم یہ منصوبہ توقعات کے مطابق کامیاب نہ ہو سکا۔ ان کے مطابق خطے کی صورتحال اب بھی نہایت غیر یقینی اور حساس ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ خلیجی ممالک کی سب سے بڑی تشویش ایران کی عسکری صلاحیت اور اس سے وابستہ گروہوں کے خطرات ہیں، اس لیے یہ معاملات بھی مذاکراتی میز پر آنے چاہییں۔

ممکنہ مذاکرات کے پیش نظر اسلام آباد کے ریڈ زون میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ پارلیمنٹ، سپریم کورٹ، اہم سرکاری دفاتر اور غیر ملکی سفارتخانوں پر مشتمل ریڈ زون کے اطراف ٹریفک محدود کر دی گئی ہے۔شہر کے دو بڑے ہوٹل، سرینا اور میریٹ، وفود کی متوقع آمد کے باعث خالی کرا لیے گئے ہیں۔ پولیس نے متبادل ٹریفک پلان جاری کرتے ہوئے شہریوں کو دیگر راستے استعمال کرنے کی ہدایت کی ہے۔اس کے علاوہ ریڈ زون میں قائم سرکاری دفاتر کے ملازمین کو 20 اپریل کو گھر سے کام کرنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے۔

اگر یہ مذاکرات ہوتے ہیں تو پاکستان ایک بار پھر خطے میں اہم سفارتی کردار ادا کرتا نظر آئے گا، جبکہ دنیا بھر کی نظریں اسلام آباد پر مرکوز رہیں گی۔

More posts