امریکا میں وفاقی امیگریشن اداروں آئی سی ای اور بارڈر پیٹرول کی کارروائیوں کے دوران فائرنگ کے دو الگ الگ واقعات نے ملک بھر میں شدید غم و غصے، احتجاج اور سیاسی کشیدگی کو جنم دے دیا ہے۔
ایک جانب ریاست اوریگون کے شہر پورٹ لینڈ میں بارڈر پیٹرول ایجنٹ کی فائرنگ سے میاں بیوی زخمی ہو گئے، جبکہ دوسری جانب ریاست منیسوٹا کے شہر منی ایپلس میں آئی سی ای ایجنٹ کی فائرنگ سے 37 سالہ خاتون رینی نکول گڈ ہلاک ہو گئیں۔ دونوں واقعات کے بعد عوامی سطح پر شفاف تحقیقات اور وفاقی اہلکاروں کی جوابدہی کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔
پورٹ لینڈ میں پیش آنے والے واقعے کے مطابق وفاقی بارڈر پیٹرول اہلکاروں نے ایک گاڑی کو روکنے کی کوشش کی، جس میں مبینہ طور پر ایک مشتبہ گینگ رکن موجود تھا۔ حکام کے مطابق اس دوران اچانک فائرنگ کا واقعہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں گاڑی میں سوار شوہر اور اس کی اہلیہ گولیوں کا نشانہ بن گئے۔فائرنگ کے فوراً بعد زخمی شخص نے خود 911 پر کال کی اور ڈسپیچر کو بتایا کہ اسے دو گولیاں لگی ہیں جبکہ اس کی بیوی بھی زخمی ہے۔ پورٹ لینڈ ایریا فائر اینڈ ریسکیو نے فوری طور پر امدادی ٹیمیں روانہ کیں اور دونوں زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا۔ تاہم پولیس حکام کا کہنا ہے کہ زخمیوں کی شناخت اور حالت تاحال واضح نہیں ہو سکی۔پورٹ لینڈ پولیس چیف باب ڈے کے مطابق یہ بھی معلوم نہیں ہو سکا کہ آیا فائرنگ کے وقت گاڑی کو بطور ہتھیار استعمال کیا گیا یا نہیں، کیونکہ واقعے کے فوراً بعد گاڑی جائے وقوعہ سے نکل گئی تھی۔ اس واقعے کی تحقیقات ایف بی آئی کر رہی ہے، جبکہ بیورو آف الکحل، تمباکو، اسلحہ و دھماکہ خیز مواد (ATF) بھی تفتیش میں معاونت فراہم کر رہا ہے۔
اوریگون کے اٹارنی جنرل ڈین رے فیلڈ نے واقعے کی باضابطہ ریاستی تحقیقات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جانچا جائے گا کہ آیا کسی وفاقی اہلکار نے قانونی اختیارات سے تجاوز کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پورٹ لینڈ اور پورے ملک میں وفاقی اہلکاروں کی جانب سے طاقت کے بے جا استعمال پر پہلے ہی تحفظات موجود ہیں اور یہ واقعہ شفافیت و جوابدہی کی ضرورت کو مزید اجاگر کرتا ہے۔پورٹ لینڈ کے میئر کیتھ ولسن نے آئی سی ای سے مطالبہ کیا ہے کہ مکمل اور غیر جانبدار تحقیقات تک شہر میں اپنی تمام کارروائیاں معطل کی جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ “پورٹ لینڈ کسی بھی قسم کے عسکری تجربات کی جگہ نہیں بن سکتا۔”
دوسرا اور زیادہ سنگین واقعہ منی ایپلس میں پیش آیا، جہاں آئی سی ای ایجنٹ کی فائرنگ سے 37 سالہ رینی نکول گڈ ہلاک ہو گئیں۔ ابتدائی معلومات کے مطابق مقتولہ غیر مسلح تھیں اور واقعے کی ویڈیوز نے سرکاری مؤقف پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔واقعے کے بعد منی ایپلس میں شدید احتجاج شروع ہو گیا۔ مظاہرین نے جائے وقوعہ کے قریب سڑکیں بند کر دیں، عارضی رکاوٹیں قائم کیں اور علاقے کو “نو آئی سی ای زون” قرار دے دیا۔ بعض مقامات پر مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان کشیدگی بھی دیکھنے میں آئی۔صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر منیسوٹا کے گورنر ٹم والز نے ریاستی نیشنل گارڈ کو مقامی پولیس کی معاونت کے لیے تعینات کرنے کی اجازت دے دی۔ منی ایپلس پولیس نے بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث تمام افسران کی چھٹیاں منسوخ کر کے انہیں ڈیوٹی پر واپس بلا لیا ہے۔گورنر ٹم والز نے جمعہ کو “یومِ اتحاد” منانے کا اعلان کرتے ہوئے شہریوں سے پرامن طریقے سے مقتولہ کو خراجِ عقیدت پیش کرنے اور ایک دوسرے کا ساتھ دینے کی اپیل کی۔
منی ایپلس کے میئر جیکب فری نے وفاقی تحقیقات پر شدید شکوک کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاستی تفتیشی اداروں کو اہم شواہد اور مواد تک رسائی نہیں دی جا رہی، جو شفافیت پر سوالیہ نشان ہے۔سابق پراسیکیوٹر مائیکل فری مین نے نائب صدر کے اس بیان کو مسترد کر دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ فائرنگ کرنے والے آئی سی ای ایجنٹ کو “مکمل استثنیٰ” حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دستیاب شواہد کی بنیاد پر مقدمہ درج کیا جانا چاہیے، تاہم انہوں نے مزید شواہد سامنے آنے تک حتمی رائے سے گریز بھی کیا۔
پورٹ لینڈ، منی ایپلس اور دیگر شہروں میں سینکڑوں افراد نے شمع بردار تعزیتی اجتماعات منعقد کیے، جہاں “ابولش آئی سی ای” اور وفاقی امیگریشن پالیسیوں کے خلاف نعرے لگائے گئے۔ نیویارک سمیت کئی شہروں کے میئرز اور سیاسی رہنماؤں نے ان واقعات کو سنگین قرار دیتے ہوئے وفاقی امیگریشن اداروں کی کارروائیوں پر سخت تنقید کی ہے۔پورٹ لینڈ اور منی ایپلس میں پیش آنے والے ان واقعات نے امریکا میں وفاقی امیگریشن اہلکاروں کے اختیارات، طاقت کے استعمال اور جوابدہی پر ایک نئی اور شدید بحث چھیڑ دی ہے۔ عوام، شہری رہنما اور ریاستی حکام شفاف، آزادانہ تحقیقات اور ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں، جبکہ ملک بھر میں حالات بدستور کشیدہ ہیں۔
