نیویارک: اقوام متحدہ میں آج ایران میں ایک اسکول پر ہونے والے مہلک فضائی حملے کے معاملے پر اہم پیش رفت متوقع ہے، جہاں سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بھی طلب کر لیا گیا ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق یہ اجلاس روس کی درخواست پر بلایا گیا ہے جس میں شہری تنصیبات پر مبینہ امریکی،اسرائیلی حملوں پر غور کیا جائے گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سلامتی کونسل کا اجلاس بند کمرے میں ہوگا، جس کی صدارت اس وقت امریکا کے پاس ہے۔ اجلاس میں ایران میں حالیہ کشیدگی اور شہری ہلاکتوں کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل بھی آج ایک اہم اجلاس میں ایران کے جنوبی شہر میناب میں واقع "شجرہ طیبہ” پرائمری اسکول پر ہونے والے فضائی حملے پر بحث کرے گی۔ ایرانی حکام کے مطابق اس حملے میں 168 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں اکثریت بچوں کی تھی۔یہ حملہ 28 فروری کو ایران میں جاری تنازع کے پہلے ہی دن پیش آیا تھا۔ ابتدائی امریکی تحقیقاتی رپورٹ میں اس بات کا عندیہ دیا گیا ہے کہ حملے کی ذمہ داری ممکنہ طور پر امریکا پر عائد ہوتی ہے۔تحقیقات سے جڑے ماہرین کے مطابق اسکول پر جو ہتھیار استعمال کیا گیا وہ امریکی ساختہ "ٹوم ہاک کروز میزائل” تھا، جو صرف امریکی افواج استعمال کرتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ میزائل ہدف سے نہیں بھٹکا بلکہ پرانی خفیہ معلومات کی بنیاد پر اسکول کو نشانہ بنایا گیا، جسے ماضی میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا اڈہ سمجھا جاتا تھا۔
امریکی ذرائع اور رپورٹ سے واقف افراد کے مطابق مذکورہ عمارت 2017 تک ایک فوجی کمپاؤنڈ کا حصہ تھی، تاہم بعد ازاں اسے اسکول میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس عمارت کو واضح طور پر اسکول کے طور پر شناخت کیا جا سکتا تھا، جبکہ اس کے اردگرد رنگ برنگی دیواریں اور بچوں سے متعلق نقش و نگار بھی موجود تھے۔مزید برآں، یہ اسکول آن لائن نقشوں میں واضح طور پر درج تھا اور اس کی اپنی ویب سائٹ بھی موجود تھی، جس میں طلبہ، اساتذہ اور انتظامیہ کی مکمل تفصیلات دستیاب تھیں۔
