پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے نکالے گئے رہنما شیر افضل مروت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کرنے والے وکلا پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے رہنما عمران خان سے ملاقات کرنے والے وکلا میں سے صرف ایک وکیل حقیقی طور پر ان کا نمائندہ ہوتا ہے جبکہ باقی 9 افراد صرف کان بھرنے کے لیے جیل جاتے ہیں۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیر افضل مروت نے کہا کہ اڈیالہ جیل جانے والے وکلا میں سے 10 میں سے صرف ایک وکیل بانی پی ٹی آئی کا حقیقی وکیل ہوتا ہے، باقی سب لوگ صرف شکوے شکایات کرنے یا ماحول بنانے کے لیے وہاں جاتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ان وکلا کو کسی عدالت میں پی ٹی آئی کے وکیل کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا، اور جو نامور وکلا میڈیا پر نظر آتے ہیں، ان میں سے سوائے چند ایک کے کوئی بانی پی ٹی آئی کا وکیل نہیں ہے۔ شیر افضل مروت نے اس عمل کو وکلا کی طرف سے پیغام رسانی کا طریقہ قرار دیا ہے۔
شیر افضل مروت نے کہا کہ وکلا جب جیل جاتے ہیں تو بانی پی ٹی آئی عمران خان کو شکایات کے بارے میں آگاہ کرتے ہیں۔ ایک وکیل کہتا ہے کہ آپ کے خلاف بیان دے دیا گیا ہے، دوسرا وکیل پہلے وکیل کی بات کی تائید کرتا ہے، اور تیسرا وکیل دعویٰ کرتا ہے کہ وہ ذرائع سے بات کی تصدیق کر چکا ہے۔
شیر افضل مروت نے اس سوال پر کہ کیا بانی پی ٹی آئی اتنی جلدی ان باتوں پر یقین کر لیتے ہیں، جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ عمران خان کے مزاج کو اچھی طرح سمجھتے ہیں اور ان سے اپنا کام نکال لیتے ہیں۔
یاد رہے کہ دو روز قبل پاکستان تحریک انصاف نے عمران خان کی ہدایت پر شیر افضل مروت کو پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی پر پی ٹی آئی سے نکال دیا تھا۔ اس کے جواب میں شیر افضل مروت نے سوشل میڈیا پر ایک طویل بیان جاری کیا تھا، جس میں ان کا کہنا تھا کہ اگر پارٹی اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے تو ٹھیک ورنہ وہ خود بھی پارٹی کے فیصلے کو احترام سے قبول کریں گے۔شیر افضل مروت نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ وہ ہمیشہ عمران خان اور پی ٹی آئی کے ساتھ وفادار رہے ہیں لیکن اپنے اصولوں پر کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی سے وفاداری کا یہ مطلب نہیں کہ ہر فیصلہ بغیر سوچے سمجھے قبول کر لیا جائے۔ ہمیں ہمیشہ کوشش کرنی چاہیے کہ پارٹی صحیح راستے پر گامزن رہے۔
