توشہ خانہ فوجداری کیس میں سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جیل میں حالت کا جائزہ لینے کے لیے ایڈووکیٹ بیرسٹر سلمان صفدر کو فرینڈ آف دی کورٹ مقرر کر دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے سلمان صفدر کو اڈیالہ جیل میں عمران خان کی بیرک تک رسائی کی اجازت دی تاکہ وہ بانی پی ٹی آئی کی سہولیات اور جیل میں موجود حالت کے بارے میں مکمل رپورٹ تیار کر کے عدالت میں جمع کرا سکیں۔
بیرسٹر سلمان صفدر نے اڈیالہ جیل میں عمران خان سے تقریباً تین گھنٹے تک ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ عمران خان کی صحت اچھی ہے اور انہیں جیل میں تمام سہولیات تک رسائی حاصل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرانے تک وہ کیس کے حوالے سے مزید کوئی بیان نہیں دیں گے۔
سپریم کورٹ نے فرینڈ آف دی کورٹ کے حوالے سے اپنے حکم میں واضح کیا کہ 24 اگست 2023 کے حکمنامے کے تحت جو رپورٹ پہلے حاصل کی گئی تھی، اس وقت عمران خان اٹک جیل میں تھے، اس لیے موجودہ رپورٹ ان کی موجودہ حالت اور سہولیات کے جائزے کے لیے ضروری ہے۔ عدالت نے سلمان صفدر کو ہدایت کی کہ وہ تحریری رپورٹ تیار کریں اور عدالت میں جمع کروائیں۔
سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت کو 12 فروری تک ملتوی کر دیا ہے تاکہ رپورٹ عدالت میں پیش کی جا سکے اور بانی پی ٹی آئی کی جیل میں حالت پر مکمل جانچ کی جا سکے۔
عمران خان کی صحت ٹھیک ہے، بیرسٹر سلمان صفدر
