اسلام آباد ہائیکورٹ میں عمران خان کی توشہ خانہ بلغاری سیٹ کیس میں سزا معطلی کی درخواست دائر کر دی گئی
درخواست بیرسٹر سلمان صفدر اور خالد یوسف چوہدری ایڈووکیٹ کے توسط سے دائر کی گئی ہے،درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ اپیل پر حتمی فیصلے تک عمران خان کی سزا معطل کر کے انہیں رہا کیا جائے، عمران خان کی دائیں آنکھ میں خون کا لوتھڑا بننے کی وجہ سے نظر شدید متاثر ہوئی ہے اور بینائی صرف 15 فیصد رہ گئی ہے، پمز ہسپتال کے ڈاکٹر محمد عارف کی رپورٹ کے مطابق عمران خان آنکھ کی تکلیف کا علاج جیل کی حدود میں ممکن نہیں ہے، عمران خان کی عمر 73 سال ہے اور ان کی مسلسل قید ان کی صحت کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے، اسپیشل جج سینٹرل ون اسلام آباد نے 20 دسمبر 2025 کو عمران خان کو غیر قانونی طور پر سزا سنائی، ٹرائل کورٹ نے عمران خان کو دفعہ 409 پی پی سی کے تحت 10 سال قید اور 1 کروڑ 64 لاکھ 25 ہزار 650 روپے جرمانے کی سزا سنائی، ٹرائل کورٹ نے کرپشن کی روک تھام کے قانون کی دفعہ 5(2) کے تحت کو مزید 7 سال قید کی سزا بھی سنائی، عمران خان پر ایک ہی الزام میں دو مختلف قوانین کے تحت سزائیں دینا قانون کی خلاف ورزی اور ڈبل جیپرڈی کے زمرے میں آتا ہے،عمران خان پبلک سرونٹ کی تعریف میں نہیں آتے، اس لیے ان پر دفعہ 409 کا اطلاق غلط کیا گیا،توشہ خانہ پالیسی کے تحت تحائف کی قیمت کا 50 فیصد ادا کر کے انہیں قانونی طور پر اپنے پاس رکھا گیا تھا، سیاسی مخالفین کے ایما پر ایف آئی اے اور نیب جیسے اداروں کو سیاسی انتقام کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے،وعدہ معاف گواہ صہیب عباسی اور گواہ انعام اللہ شاہ کے بیانات میں تضادات سے بھرپور ہیں،
