جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ انسانی ہمدردی اور ہماری مشرقی روایات کا تقاضا ہے کہ ایک بڑی سیاسی جماعت کے قائد عمران خان کو جیل میں صحت کی تمام سہولیات فراہم کی جائیں اور انہیں اپنی مرضی کے ڈاکٹر سے معائنہ کرانے کی اجازت دی جائے۔
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ سیاسی اختلافات کو دشمنی کی حد تک لے جانا معاشرتی نقصان کا باعث بنتا ہے، اس لیے فطری اختلاف کو تصادم میں بدلنے سے گریز کیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ معاشرے کی اجتماعی بقا اسی میں ہے کہ سیاسی کشیدگی عوامی زندگیوں میں مشکلات اور سماجی نظم و ضبط کی خرابی کا سبب نہ بنے۔ ان کے بقول سیاست خود مقصد نہیں بلکہ انسانی فلاح کے حصول کا ذریعہ ہونی چاہیے۔سربراہ جے یو آئی نے سرحدی صوبوں میں بڑھتی بدامنی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خصوصاً خیبر پختون خوا اور ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس پر دہشتگرد حملوں نے صورتحال کو سنگین بنا دیا ہے، پنیالہ پولیس پر حالیہ مہلک حملہ چند ہفتوں میں دوسرا بڑا واقعہ ہے جس میں ایس ایچ او فہیم ممتاز سمیت چار اہلکار جان کی بازی ہار گئے۔
مولانا فضل الرحمن نے آئی جی پی خیبر پختون خوا سے مطالبہ کیا کہ سانحہ پنیالہ کی مکمل اور شفاف انکوائری کرائی جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ دہشتگردوں نے شہید افسر کی سرکاری ایس ایم جی کیسے چھینی جبکہ اس وقت سی ٹی ڈی کی بھاری نفری ان کے ساتھ موجود تھی۔ مزید یہ کہ پیچیدہ اور پہاڑی علاقوں میں آپریشن کے دوران بکتر بند گاڑی فراہم نہ کیے جانے کی وجوہات بھی سامنے لائی جائیں۔
