بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ خان نے کہا ہے کہ عمران خان نے بار بار کہا کہ وکلا کو کہیں عدالتوں میں جا کر بیٹھ جائیں میرے کیسز لگوائیں لیکن وکیل کچھ نہیں کر رہے ،
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان کا کہنا تھا کہ پارٹی کو دو ٹوک کہتے ہیں کہ عمران خان کی صحت کے معاملے پر فیملی سے پوچھے بغیر کوئی فیصلہ نہ کریں ،ہم پی ٹی آئی کی طرف سے کچھ نہیں ہوتا دیکھ رہے، پارٹی بانی کی صحت سے متعلق آج کے بعد کوئی بات نا کرے ،عمران خان کی صحت پر فیصلے کا مینڈیٹ پارٹی کے پاس نہیں ، فیملی اور ذاتی ڈاکٹرز کے پاس ہے ، محسن نقوی کا کہنا ہے کہ عمران خان کی صحت سے متعلق پارٹی اور وہ ایک پیچ پر ہیں میں آج واضح کردوں عمران خان کی صحت کا معاملہ پارٹی کا میڈیٹ نہیں صرف فیملی کا مینڈیٹ ہے ،مارے ساتھ صرف حسین اخونزاہ رابطے میں تھے اور شفاء ہسپتال نام آیا تو حسین آخونزادہ سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ کانفرنس کال میں محسن نقوی سے بات ہوئی ہے،عمران خان کی صحت پر پی ٹی آئی فیصلہ نہیں کر سکتی ،چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کو اسلام آباد ہائی کورٹ لایا ہی اسی لیے گیا ہے کہ وہ عمران خان کے کیسز نہ سنیں ،سہیل آفریدی بات کرنے کے لیے آئے تو جسٹس ڈوگر اٹھ کر بھاگ گئے ،
دوسری جانب بیرسٹر سلمان صفدر کا کہنا ہے کہ عمران خان کو ہاسپٹل لے جانے سے ثابت ہو چکا کہ ان کا علاج جیل میں ممکن نہیں،اگر اس ہفتے عمران خان اور بشری بی بی کے کیسز نہ سنے گئے تو اگلے ہفتے کیسز براہ راست سپریم کورٹ میں دائر کر دیں گے ،عدالتی عملے کی جانب ہمیں یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ کل جمعرات کے روز عمران خان کے کیسز مقرر ہوں گئے توشہ خان ٹو کیس کی درخواست پر یہ اعتراض لگایا یے کہ وکا لت نامے نہیں دیے جارہے ہم نے اڈیالہ جیل حکام سے دس مرتبہ رابطہ کیا ہے کہ وکلات نامے دستخط کر کے ہمیں دیں۔
