بھارت اور بنگلا دیش کے تعلقات میں دراڑ مزید گہری ہو گئی ہے، جسے نیویارک ٹائمز نے اپنی حالیہ رپورٹ میں بے نقاب کیا ہے۔ امریکی اخبار کے مطابق شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں اور بھارت حسینہ واجد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کی راہ میں رکاوٹ بن رہا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہندو انتہا پسندوں کے دباؤ پر بنگلا دیشی کھلاڑی کو آئی پی ایل سے نکال دیا گیا، جس کے جواب میں بنگلا دیش نے ٹیم کو ورلڈ کپ کے لیے بھارت نہ بھیجنے کا اعلان کیا۔ بھارت اور بنگلا دیش کے درمیان یہ اختلافات دونوں ملکوں میں انتخابی نعرے کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔
اخبار کے مطابق بھارت کی خود کو طاقت کے طور پر منوانے کی کوششیں ناکام ہو گئی ہیں اور 1971ء کے بعد پہلی بار بھارت نے ڈھاکا میں اپنی خصوصی حیثیت کھو دی ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ بھارت محمد یونس کی عبوری حکومت کے خاتمے کا انتظار کر رہا ہے تاکہ اپنی اثر و رسوخ کی پوزیشن بحال کر سکے۔
بھارت اور بنگلا دیش کے تعلقات میں کشیدگی، نیویارک ٹائمز نے بھارتی مداخلت بے نقاب کردی
