Baaghi TV


مودی حکومت کا یوٹرن، مشرق وسطیٰ بحران پر پہلی بار ردعمل

میں جاری کشیدگی پر اپنا ردعمل دے دیا ہے۔ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی تنقید کے بعد بھارتی وزارت خارجہ نے پہلی بار لبنان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا، تاہم منافقت دکھاتے ہوئے بیان میں اسرائیل کا نام لینے سے گریز کیا گیا۔
بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے میڈیا بریفنگ کے دوران کہا کہ لبنان میں بڑے پیمانے پر ہونے والی ہلاکتیں نہایت پریشان کن ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی قوانین، قومی خودمختاری اور ریاستی سلامتی کا احترام ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔
‎ترجمان کے مطابق بھارت موجودہ صورتحال کو انتہائی تشویشناک سمجھتا ہے، خاص طور پر اس تناظر میں کہ بھارت اقوام متحدہ کے امن مشن میں فعال کردار ادا کرتا ہے اور لبنان کے امن و استحکام میں اس کی گہری دلچسپی موجود ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں امن برقرار رکھنا عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
‎یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب لبنان میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر دنیا بھر میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں اسرائیلی افواج کی جانب سے لبنان پر شدید فضائی حملے کیے گئے، حالانکہ اس سے قبل ایران کے ساتھ جنگ بندی کا اعلان کیا جا چکا تھا۔
‎لبنان کی سول ڈیفنس اتھارٹی کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 254 تک پہنچ گئی ہے جبکہ 1165 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی ان حملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی اور سفارتی حل پر زور دیا ہے۔
‎ماہرین کے مطابق بھارت کا یہ بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ نئی دہلی پر عالمی دباؤ بڑھ رہا تھا، جس کے باعث اسے اس حساس معاملے پر اپنی پوزیشن واضح کرنا پڑی۔ تاہم اسرائیل کا نام نہ لینا اس بات کی علامت ہے کہ بھارت ابھی بھی منافقانہ سفارتی حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہے۔

More posts