انڈیا کی جانب سے دریائے چناب میں پانی چھوڑنے کے بعد پاکستان میں سیلابی صورتحال کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق سلال ڈیم سے تقریباً ایک لاکھ 50 ہزار کیوسک پانی کا سیلابی ریلہ چھوڑا گیا ہے، جس کے باعث دریائے چناب کے مختلف مقامات پر پانی کے بہاؤ میں نمایاں اضافہ ہونے کا امکان ہے۔
فلڈ فارکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق دریائے چناب پر قائم ہیڈ مرالہ، خانکی اور قادر آباد کے مقامات پر پانی کے شدید دباؤ کا خدشہ ہے۔ متعلقہ اداروں کو صورتحال پر کڑی نظر رکھنے اور ممکنہ سیلابی کیفیت سے نمٹنے کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
دریائے چناب پاکستان کے اہم دریاؤں میں شامل ہے اور بالائی علاقوں سے آنے والا اضافی پانی نشیبی علاقوں کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ خاص طور پر مون سون کے موسم میں دریاؤں میں پانی کی سطح پہلے ہی بلند ہونے کے باعث اچانک بڑے پیمانے پر پانی چھوڑے جانے سے سیلابی صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔
ممکنہ طور پر ہیڈ مرالہ سے گزرنے والا پانی آگے خانکی اور قادر آباد بیراج تک پہنچے گا، جہاں پانی کے بہاؤ اور سطح کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔ حکام کی جانب سے متعلقہ انتظامیہ اور امدادی اداروں کو الرٹ رہنے کی ضرورت ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بروقت کارروائی کی جا سکے۔
یہ صورتحال ایک بار پھر پاکستان اور انڈیا کے درمیان دریائی پانی کے انتظام اور بروقت معلومات کی فراہمی کے معاملے کو نمایاں کرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق دریاؤں میں غیر معمولی پانی کے بہاؤ کی صورت میں بروقت وارننگ اور مؤثر رابطہ کاری انسانی جانوں، فصلوں اور انفراسٹرکچر کو ممکنہ نقصان سے بچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
متاثرہ علاقوں کے رہائشیوں، خصوصاً دریائے چناب کے قریب آباد افراد کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ پانی کی صورتحال میں مزید تبدیلی کے پیش نظر متعلقہ اداروں کی جانب سے تازہ اطلاعات اور انتباہات جاری کیے جانے کا امکان ہے۔
انڈیا کی آبی جارحیت، سلال ڈیم سے ڈیڑھ لاکھ کیوسک سیلابی ریلہ چھوڑ دیا
