بھارتی کانگریس پارٹی کی صدر سونیا گاندھی نے کہا ہے کہ ایران جیسے پرانے اتحادی کو نظر انداز کرکے اسرائیل کی حمایت کرنا بھارت کی سفارتی خودمختاری کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔
بھارتی جریدے میں شائع اپنے مضمون میں سونیا گاندھی نے لکھا کہ موجودہ بھارتی حکومت نے خارجہ پالیسی میں توازن برقرار رکھنے کے بجائے ایک فریق کی کھلی حمایت کا راستہ اختیار کیا، جس کے نتیجے میں ملک کی خودمختار سفارتی شناخت متاثر ہوئی۔
انہوں نے یاد دلایا کہ بھارت ماضی میں اسرائیل اور ایران کے درمیان نہایت محتاط توازن قائم رکھتا آیا ہے، تاہم ان کے بقول وزیر اعظم نریندر مودی نے اس روایت کو سیاسی مقاصد کی خاطر پس پشت ڈال دیا ہے۔
سونیا گاندھی کا کہنا تھا کہ اس طرز عمل سے عالمی سطح پر بھارت کی ساکھ پر سوالات اٹھ رہے ہیں اور حکومت کا رویہ اسے مخصوص مفادات کے تابع دکھا رہا ہے۔ ان کے مطابق جس پالیسی کو سفارت کاری قرار دیا جا رہا ہے وہ درحقیقت حساس مواقع پر ذمہ داری سے کنارہ کشی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ رویہ اخلاقی کمزوری کی عکاسی کرتا ہے اور عالمی فورمز پر بھارت کی پوزیشن کو کمزور بنا سکتا ہے۔
سونیا گاندھی کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے قتل پر بھارت کا نرم ردعمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ نئی دہلی اپنی آزاد خارجہ پالیسی کے دعوے سے پیچھے ہٹ چکی ہے۔
ایران کو نظر انداز کر کے اسرائیل کی حمایت، بھارت نے سفارتی خودمختاری قربان کردی: سونیا گاندھی
