نئی دہلی،بھارتی کرکٹ بورڈ نے آئی پی ایل کے دوران کھلاڑیوں کے ساتھ موجود پارٹنرز اور گرل فرینڈز کے بڑھتے ہوئے کردار پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور اس حوالے سے سخت ضوابط متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بورڈ کو خدشہ ہے کہ کھلاڑیوں کی ذاتی تعلقات کی وجہ سے لیگ اور ادارے کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔ اسی تناظر میں بی سی سی آئی نے کھلاڑیوں کی دوستوں کی نقل و حرکت محدود کرنے اور ڈسپلن کو یقینی بنانے کے لیے پالیسی سازی کا عمل شروع کر دیا ہے۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اردک پانڈیا، یشسوی جیسوال، ایشان کشن اور ارشدیپ سنگھ جیسے کھلاڑی اپنی پارٹنرز کے ساتھ عوامی مقامات پر نظر آتے رہے ہیں، جبکہ بعض پارٹنرز ٹیم بس میں سفر کرنے اور ٹیم ہوٹل میں قیام بھی کرتی ہیں، جس پر بورڈ نے ناراضی کا اظہار کیا ہے۔بی سی سی آئی حکام کے مطابق کچھ پارٹنرز سوشل میڈیا انفلوئنسرز ہیں جنہوں نے مبینہ طور پر جوئے سے متعلق ایپس کی تشہیر بھی کی، جو بورڈ کے لیے تشویش کا باعث بنی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ماضی میں بعض معاملات پولیس شکایات تک بھی جا پہنچے تھے، جس کے بعد اب اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔حکام کے مطابق اینٹی کرپشن یونٹ کو بھی صورتحال سے آگاہ کر دیا گیا ہے، جبکہ آئندہ اجلاس میں باقاعدہ قوانین پیش کیے جائیں گے۔ یہ قوانین نہ صرف آئی پی ایل بلکہ بھارتی قومی ٹیم پر بھی لاگو کیے جانے کا امکان ہے۔
بی سی سی آئی کے ایک عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس رجحان کو بروقت نہ روکا گیا تو یہ مستقبل میں بڑے تنازعات کا سبب بن سکتا ہے، لہٰذا ڈسپلن پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
