بھارتی نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر اجیت ڈوول کے افغانستان کا دورہ کررہے ہیں۔
بھارتی انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق اجیت ڈوول آج (23 فروری 2026) کسی وقت کابل پہنچ رہے ہیں۔ یہ دورہ انتہائی خفیہ نوعیت کا ہے۔کل رات 22 فروری کو طالبان کے عبوری وزیر داخلہ اور حقانی نیٹ ورک کے سربراہ سراج الدین حقانی نے اجیت ڈوول سے فون پر بات کی۔ یہ رابطہ پاکستان-افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں اہم سمجھا جا رہا ہے، جہاں پاکستان نے حال ہی میں افغان سرحد پر دہشت گرد کیمپوں پر فضائی حملے کیے، جن میں پاکستان کا دعویٰ ہے کہ 80 سے زائد دہشت گرد ہلاک ہوئے، جبکہ افغان طالبان نے اسے شہریوں پر حملہ قرار دیتے ہوئے شہری ہلاکتوں کا الزام لگایا اور جواب دینے کی دھمکی دی۔
ذرائع کے مطابق ملاقات میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور پاکستان کی حالیہ کارروائیوں کا جائزہ لیا جائے گا، سیکیورٹی تعاون اور انٹیلی جنس شیئرنگ کے امکانات ہیںَ افغانستان میں پاکستان کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کے حکمت عملی پر بات چیت ہو گی، پاکستان کے خلاف مستقبل کا مشترکہ لائحہ عمل تیار کیا جائے گا،اس کے علاوہ اجیت ڈوول کے ملا عمر کے بیٹے اور عبوری وزیر دفاع ملا محمد یعقوب اور طالبان کے عبوری وزیر خارجہ امیر خان متقی سے ملاقات کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان نے ٹی ٹی پی اور دیگر گروہوں کے خلاف کارروائی کی، جنہیں وہ افغان سرزمین سے آپریٹ ہونے والا قرار دیتا ہے۔ بھارت نے ان پاکستانی حملوں کی شدید مذمت کی اور انہیں افغان خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا۔ اس تناظر میں بھارت کا طالبان قیادت سے براہ راست رابطہ علاقائی طاقت کے توازن کو متاثر کرنے والا ہو سکتا ہے۔
