Baaghi TV

مودی۔ٹرمپ فون کال تنازعہ: بھارت اور امریکہ کے تعلقات میں نئی کشیدگی

بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان مبینہ فون رابطے پر پیدا ہونے والا تنازعہ شدت اختیار کر گیا ہے، جس کے بعد بھارت۔امریکہ تعلقات ایک بار پھر سفارتی دباؤ کی زد میں آ گئے ہیں۔

امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لٹنک کے ایک بیان نے اس معاملے کو سیاسی اور سفارتی بحث کا مرکز بنا دیا ہے۔ امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لٹنک نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارت اور امریکہ کے درمیان ایک اہم دوطرفہ تجارتی معاہدہ آخری مرحلے میں اس لیے رک گیا کیونکہ وزیر اعظم نریندر مودی نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے فون پر رابطہ نہیں کیا۔ ان کے مطابق معاہدے کے بیشتر نکات طے پا چکے تھے، تاہم حتمی منظوری کے لیے ٹرمپ کی براہ راست مداخلت ضروری سمجھی جا رہی تھی، جو مودی کی فون کال کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتی تھی۔

لٹنک نے کہا کہ صدر ٹرمپ ذاتی سطح پر معاملات طے کرنے کو ترجیح دیتے ہیں اور اسی طرزِ سفارت کاری کے تحت بھارت سے بھی توقع کی جا رہی تھی کہ وزیر اعظم مودی براہ راست رابطہ کریں گے۔ امریکی مؤقف کے مطابق یہ رابطہ نہ ہونے کے باعث تجارتی معاہدہ تعطل کا شکار ہو گیا۔

تاہم دوسری طرف بھارت نے امریکی دعوے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ دعویٰ حقائق کے منافی اور گمراہ کن ہے۔ ترجمان کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان 2025 کے دوران کم از کم آٹھ مرتبہ ٹیلی فونک رابطہ ہوا، جن میں تجارت، دفاعی تعاون اور عالمی امور پر تبادلہ خیال شامل تھا۔ بھارتی ترجمان نے کہا کہ امریکہ کی طرف سے یہ کہنا درست نہیں کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان کوئی رابطہ نہیں ہوا یا مودی نے دانستہ طور پر ٹرمپ سے بات نہیں کی۔ ترجمان کے مطابق بھارت۔امریکہ تعلقات مسلسل رابطے اور مشاورت پر مبنی رہے ہیں اور کسی ایک فون کال کو بنیاد بنا کر پورے عمل کو ناکام قرار دینا درست نہیں۔

اس معاملے کے سامنے آنے کے بعد بھارت میں اپوزیشن جماعت کانگریس نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات میں غیر یقینی صورتحال بڑھ رہی ہے۔ کانگریس کے مطابق ایک جانب حکومت قریبی تعلقات کا دعویٰ کرتی ہے، جبکہ دوسری جانب ایسے بیانات دونوں ممالک کے درمیان اعتماد پر سوالیہ نشان لگا رہے ہیں۔ 

More posts