انڈونیشیا نے کم عمر بچوں کے تحفظ کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر نئی پابندیوں کا آغاز کر دیا ہے، جس کے تحت 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا تک رسائی محدود کر دی گئی ہے۔ یہ اقدام بڑھتے ہوئے آن لائن استعمال اور اس کے ممکنہ منفی اثرات کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے۔
انڈونیشیا کے وزیرِ مواصلات کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” نے حکومتی قواعد و ضوابط کی مکمل پابندی کرتے ہوئے صارفین کے لیے کم از کم عمر 16 سال مقرر کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ اس فیصلے کے بعد دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے بھی توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اسی طرح کے اقدامات کریں گے۔
اعداد و شمار کے مطابق انڈونیشیا میں تقریباً 48 فیصد انٹرنیٹ صارفین کی عمر 18 سال سے کم ہے، جو ایک بڑی تعداد کو ظاہر کرتا ہے۔ مزید یہ کہ 80 فیصد سے زائد بچے روزانہ اوسطاً 7 گھنٹے آن لائن گزارتے ہیں، جو ماہرین کے لیے تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔
رپورٹس کے مطابق تقریباً 35.57 فیصد کم عمر بچے بھی انٹرنیٹ تک رسائی رکھتے ہیں، جس کے باعث حکومت نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے قوانین سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد بچوں کو غیر مناسب مواد، سائبر بُلنگ اور دیگر آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ دیگر ممالک کے لیے بھی ایک مثال بن سکتا ہے، جہاں بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کو منظم کرنے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔
انڈونیشیا میں کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر نئی پابندیاں
