Baaghi TV

انڈونیشیا کا ٹرمپ کے غزہ پیس بورڈ کیلئے ایک ارب ڈالر فیس دینے سے انکار

انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو نے واضح کیا ہے کہ ان کا ملک غزہ پیس بورڈ کی رکنیت کے لیے ایک ارب ڈالر فیس ادا نہیں کرے گا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق صدر پرابوو سوبیانتو کا کہنا تھا کہ انڈونیشیا نے صرف غزہ میں قیامِ امن کے لیے امن فوج فراہم کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا ان کے مطابق انڈونیشیا کا کردار محدود اور واضح ہے، اور وہ صرف پیس کیپنگ مشنز میں حصہ لینے کے لیے تیار ہیں، نہ کہ بھاری مالی ذمہ داری اٹھانے کے لیے-

صدر نے مزید کہا کہ انڈونیشیا نے کسی بھی قسم کا مالی وعدہ نہیں کیا اور اس حوالے سے پھیلنے والی اطلاعات درست نہیں ہیں انہوں نے زور دیا کہ انڈو نیشین فوج غزہ میں صرف امن برقرار رکھنے کے لیے خدمات انجام دے سکتی ہے، اور اگر ضرورت پڑی تو مطلوبہ تعداد میں اہلکار فراہم کیے جا سکتے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق صدر کی اس وضاحت کا مقصد عوامی خدشات کو دور کرنا تھا، کیونکہ ملک میں یہ تشویش پائی جا رہی تھی کہ ایک ارب ڈالر کی ممکنہ ادائیگی سے قومی بجٹ پر بڑا بوجھ پڑ سکتا ہے اس سے قبل 3 فروری کو انڈونیشیا کے وزیر خزانہ کی جانب سے عندیہ دیا گیا تھا کہ یہ رقم وزارت دفاع کے بجٹ سے فراہم کی جا سکتی ہے،انڈونیشین میڈیا کے مطابق غزہ بورڈ میں شمولیت پر صدر کو ملک کے اندر سخت تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔

واضح رہے کہ صدر پرابوو سوبیانتو نے واشنگٹن میں غزہ سے متعلق بورڈ آف پیس کے افتتاحی اجلاس میں شرکت کی تھی، جہاں غزہ کی تعمیر نو، ہنگامی امداد اور سکیورٹی استحکام کے لیے ابتدائی طور پر 17 ارب ڈالر کے وعدے کیے گئے تھے ان میں امریکا نے 10 ارب ڈالر جبکہ یو اے ای، سعودی عرب اور قطر سمیت دیگر 9 ممالک نے مجموعی طور پر 7 ارب ڈالر دینے کا اعلان کیا تھا۔

More posts