انڈونیشیا نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ امن منصوبے کے تحت غزہ میں 5 ہزار سے 8 ہزار فوجیوں کی ممکنہ تعیناتی کی تیاری شروع کر دی ہے۔
یہ اعلان انڈونیشیا کے آرمی چیف آف اسٹاف نے پیر کے روز کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انڈونیشین فوج نے ممکنہ امن مشن کے لیے دستوں کی تیاری کا عمل شروع کر دیا ہے، تاہم فوجیوں کی حتمی تعداد اور ذمہ داریوں سے متعلق بات چیت تاحال جاری ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق آئندہ چند ہفتوں کے دوران غزہ میں ہزاروں انڈونیشین فوجیوں کی تعیناتی متوقع ہے۔ یہ پیش رفت اس معاہدے کے چار ماہ بعد سامنے آئی ہے جس کے تحت غزہ میں ایک کثیر القومی فورس قائم کرنے پر اتفاق ہوا تھا۔
انڈونیشیا اس معاہدے کے بعد پہلا ملک بن گیا ہے جس نے باضابطہ طور پر غزہ میں امن مشن کے لیے فوج بھیجنے کی تیاری کا اعلان کیا ہے۔ تاہم سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ انڈونیشیا کا یہ بیان عملی تعیناتی سے زیادہ ایک سیاسی پیغام بھی ہو سکتا ہے، کیونکہ حتمی فیصلے اور تفصیلات ابھی طے ہونا باقی ہیں۔
انڈونیشیا کا غزہ میں ہزاروں فوجی بھیجنے کا اعلان
