Baaghi TV


پٹرول مہنگا رہا تو صنعتیں بند ہوں گی، بزنس کمیونٹی کی وارننگ


ایوان صنعت و تجارت کے صدر فاروق یوسف نے خبردار کیا ہے کہ اگر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی نہ کی گئی تو ملک بھر میں صنعتیں بند ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
فیصل آباد چیمبر آف کامرس کے عہدیداروں نے پٹرول پر 80 روپے فی لیٹر لیوی میں کمی کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں یہ اقدام صنعتوں کو بچانے کے لیے کافی نہیں۔
‎فاروق یوسف کے مطابق حکومت کے پاس 28 دن کا ایندھن ذخیرہ موجود تھا، اس کے باوجود قیمتوں میں اضافہ کیا گیا، جس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ جنگ کو بہانہ بنا کر پٹرول مہنگا کیا گیا۔
‎انہوں نے کہا کہ اس اہم فیصلے میں بزنس کمیونٹی کو شامل نہیں کیا گیا، حالانکہ کاروباری طبقہ براہ راست متاثر ہوتا ہے اور اسے اسٹیک ہولڈر سمجھا جانا چاہیے تھا۔
‎ان کا کہنا تھا کہ خام مال کی قیمتوں میں پہلے ہی 45 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے جبکہ شپنگ کمپنیوں نے وار چارجز عائد کر دیے ہیں، جس سے پیداواری لاگت میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
‎انہوں نے بتایا کہ پٹرول مہنگا ہونے کے بعد گڈز ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 100 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے، جس کا براہ راست اثر صنعتوں اور برآمدات پر پڑ رہا ہے۔
‎فاروق یوسف نے سبسڈی کے نظام پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ شفاف نہیں اور حقیقی مستحقین تک فائدہ نہیں پہنچتا، اس لیے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں براہ راست کمی کی جائے۔
‎انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت آئی ایم ایف کے دباؤ میں آ کر قیمتیں بڑھانے کے بجائے لیوی ختم کرے اور ایک جامع قومی برآمداتی پالیسی متعارف کرائے تاکہ صنعتوں کو سہارا مل سکے۔

More posts