Baaghi TV


مہنگائی 19 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی


پاکستان میں مارچ 2026 کے دوران مہنگائی انیس ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، جس کے باعث شہریوں کو شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے۔
وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مارچ میں مہنگائی کی سالانہ شرح 7.30 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو اگست 2024 کے بعد سب سے زیادہ ہے۔ فروری کے مقابلے میں صرف ایک ماہ کے دوران مہنگائی میں 1.18 فیصد اضافہ ہوا۔
‎رپورٹ کے مطابق مہنگائی کا اثر شہری علاقوں میں زیادہ رہا، جہاں قیمتوں میں 1.34 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ دیہی علاقوں میں یہ اضافہ 0.96 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔
‎اعداد و شمار کے مطابق اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا، شہروں میں چکن 13 فیصد، پھل 11.25 فیصد اور سبزیاں 5 فیصد مہنگی ہوئیں، جبکہ دال ماش، گوشت اور خشک میوہ جات کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔
‎دوسری جانب کچھ اشیاء کی قیمتوں میں کمی بھی ریکارڈ کی گئی، جن میں ٹماٹر 29 فیصد، انڈے 18 فیصد، آلو 12 فیصد اور گندم 5.48 فیصد سستی ہوئی۔
‎رپورٹ میں بتایا گیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں بھی اضافہ ہوا، شہری علاقوں میں ٹرانسپورٹ 9.15 فیصد مہنگی ہوئی جبکہ موٹر فیول کی قیمتوں میں 18.01 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
‎اسی طرح بجلی کی قیمتوں میں 5.08 فیصد اضافہ ہوا جبکہ ہاؤسنگ، گیس اور پانی کے اخراجات سالانہ بنیادوں پر 11.50 فیصد تک بڑھ گئے۔
‎تعلیم، صحت اور دیگر شعبے بھی مہنگائی سے متاثر ہوئے، جہاں تعلیمی اخراجات میں 9 فیصد سے زائد اور صحت کے اخراجات میں 7.36 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ہوٹل اور ریسٹورنٹس کے چارجز میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔

More posts